پاکستان کا عالمی کردار مزید مضبوط، مکہ معاہدے پر امریکی جریدے کی بڑی رپورٹ

امریکی جریدے ایف پی آئی ایف میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ باہمی دفاعی معاہدے کو خطے میں بدلتے ہوئے طاقت کے توازن اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت سے جوڑا گیا ہے۔
تجزیے کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لیے سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے اور علاقائی سطح پر اپنے کردار کو وسعت دینے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے روایتی انتظامات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور علاقائی ممالک اپنے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایف پی آئی ایف کے مطابق مکہ معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک نئے علاقائی دفاعی فریم ورک میں جوڑ دیا ہے۔ تینوں ممالک نے خطے کے دفاع، استحکام اور پائیدار امن کے لیے مشترکہ طور پر تعمیری کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
معاہدے کے تحت ایک رکن کے خلاف مسلح حملے کو مشترکہ خطرہ تصور کرنے کا اصول اپنایا گیا ہے، جس سے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید منظم بنانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
تجزیے میں کہا گیا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ علاقائی توازن اور سلامتی کو مضبوط کرنا ہے۔
امریکی جریدے کے تجزیے کے مطابق سعودی عرب کی مالی اور سیاسی قوت، ترکیہ کی دفاعی و عسکری صلاحیت اور پاکستان کی جنگی تجربہ رکھنے والی فوج تینوں ممالک کے اتحاد کو منفرد نوعیت فراہم کرتی ہے۔
تجزیے میں پاکستان کی فوجی صلاحیت کے ساتھ اس کی سفارتی پوزیشن کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے ایران، امریکا، چین، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بیک وقت روابط اسے خطے میں ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔
ایف پی آئی ایف کے مطابق مکہ معاہدے کو محض ایران مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تجزیے میں اسے ایک ایسے دفاعی فریم ورک کے طور پر دیکھا گیا ہے جو خطے میں پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے ردعمل میں تشکیل پایا ہے۔
پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات اور واشنگٹن و تہران کے درمیان ماضی میں ثالثی کے کردار کو بھی معاہدے کی نسبتاً متوازن نوعیت کی ایک مثال قرار دیا گیا ہے۔
تجزیے میں بڑھتے ہوئے بھارتی اسرائیلی اسٹریٹجک تعاون کو بھی پاکستان کے لیے مکہ معاہدے کی اہمیت میں اضافے کا ایک عنصر قرار دیا گیا ہے۔
اس کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے دفاعی تعلقات خطے میں بھارت کی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں، جبکہ اسرائیل میں بعض حلقوں کی جانب سے مکہ معاہدے پر تشویش کا اظہار بھی اس کی علاقائی اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایف پی آئی ایف نے یمن میں حوثی حملوں اور بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کا بھی حوالہ دیا۔ تجزیے کے مطابق ان حالات نے مشرق وسطیٰ میں نئے اور زیادہ مربوط دفاعی انتظامات کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔
معاہدے میں علاقائی پراکسی خطرات سمیت مختلف سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے پر توجہ دی گئی ہے، جبکہ مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی اس فریم ورک میں شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
تجزیے کے مطابق مکہ معاہدے کی اصل طاقت کسی سخت فوجی بلاک کے قیام کے بجائے اس کی نسبتاً لچکدار اور شمولیتی نوعیت میں ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کی حمایت کو بھی پاکستان کے واشنگٹن میں برقرار سفارتی وزن کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا کہ پاکستان کی متوازن سفارت کاری اسے مختلف طاقتوں کے ساتھ روابط برقرار رکھتے ہوئے خطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
مجموعی طور پر ایف پی آئی ایف کے تجزیے کے مطابق مکہ باہمی دفاعی معاہدہ صرف تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ بدلتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار، نئے سیکیورٹی انتظامات اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









