ہفتہ، 22-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/09هـ (22-08-2026م)

نادرا کی پنشنرز کے لیے بڑی سہولت، پروف آف لائف سرٹیفکیٹ مفت اور گھر بیٹھے حاصل کرنے کا موقع

22 اگست, 2026 09:10

کراچی: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف، یعنی تصدیقِ حیات سرٹیفکیٹ کے اجراء کو مزید آسان اور مفت بنا دیا ہے۔ نئی سہولت کے تحت اہل پنشنرز گھر بیٹھے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

نادرا کے مطابق یہ سہولت ملک بھر میں پاک آئی ڈی موبائل ایپ، نادرا رجسٹریشن مراکز، یونین کونسلز، ای سہولت فرنچائزز اور موبائل سروسز کے ذریعے دستیاب ہے۔

یہ اقدام وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات، وزارتِ دفاع، کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (CGA) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (MAG) کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔

اس سہولت کا بنیادی مقصد بزرگ، صاحبِ فراش اور خصوصی افراد سمیت ان پنشنرز کو ریلیف فراہم کرنا ہے جن کے لیے پروف آف لائف کی تصدیق کے لیے بار بار بینک یا پنشن دفتر جانا مشکل ہوتا ہے۔

گھر بیٹھے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی سہولت

نادرا کے مطابق پروف آف لائف حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ ہے۔ اہل پنشنرز اس ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی شناخت کی تصدیق مکمل کرکے سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

جو پنشنرز خود پاک آئی ڈی ایپ استعمال نہیں کر سکتے، ان کے خاندان کا کوئی فرد اپنے پاک آئی ڈی اکاؤنٹ کے ذریعے مقررہ شناختی تصدیقی عمل مکمل کرکے پنشنر کا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتا ہے۔

ای سہولت فرنچائزز اور نادرا مراکز پر بھی مفت سروس

پنشنرز کو معاونت فراہم کرنے کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد ای سہولت فرنچائزز پر بھی بلا معاوضہ دستیاب ہوگا۔

اس کے علاوہ پنشنرز 988 سے زائد نادرا رجسٹریشن مراکز اور 500 یونین کونسلز سے بھی یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ نادرا کے مطابق ان مراکز پر پنشنرز کو معمول کی قطار کے بجائے ترجیحی بنیاد پر خدمات فراہم کی جائیں گی۔

ایسے پنشنرز جو کسی سروس پوائنٹ تک آسانی سے نہیں پہنچ سکتے، ان کے لیے نادرا کی موبائل رجسٹریشن وینز، بائیکر سروس اور مین پیک سروس کے ذریعے بھی پروف آف لائف کی سہولت دستیاب ہے۔

نیشنل پنشنرز رجسٹر قائم

نادرا کے مطابق پروف آف لائف کی سہولت ایک وسیع تر اصلاحاتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تحت نیشنل پنشنرز رجسٹر قائم کیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے زیرانتظام پنشنرز کو رجسٹر میں شامل کیا گیا ہے۔ اس رجسٹر کے ذریعے پنشنرز کی شناخت اور ان کی حیات کی حیثیت کی تصدیق کے لیے ایک مستند ڈیجیٹل حوالہ دستیاب ہوگا۔

نظام کا مقصد یہ بھی ہے کہ پنشنرز یا ان کے اہل خانہ کو ایک ہی واقعے کی اطلاع مختلف سرکاری اداروں کو بار بار دینے کی ضرورت نہ پڑے۔

وفات یا اہلیت میں تبدیلی کی ڈیجیٹل اطلاع

نادرا کے مطابق اگر کسی بنیادی یا ثانوی پنشنر کی وفات کسی صحت مرکز کی جانب سے نادرا کے ڈیتھ نوٹیفکیشن ٹول کے ذریعے رپورٹ کی جاتی ہے یا اسے سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (CRMS) میں درج کیا جاتا ہے تو متعلقہ پنشن کنٹرولر کو روزانہ کی بنیاد پر ڈیجیٹل اطلاع فراہم کی جائے گی۔

اسی طرح ثانوی یا فیملی پنشنرز کی اہلیت پر اثرانداز ہونے والی تبدیلیاں، جن میں قواعد کے تحت عمر یا ازدواجی حیثیت سے متعلق شرائط شامل ہیں، اگر نادرا کے ریکارڈ میں ظاہر ہوں تو ان کی اطلاع بھی متعلقہ پنشن کنٹرولرز کو دی جائے گی۔

تاہم پنشن جاری رکھنے، اس میں تبدیلی یا اسے بند کرنے کا حتمی فیصلہ متعلقہ مجاز پنشن اتھارٹی قابلِ اطلاق قواعد کے تحت کرے گی۔

بینکوں کے لیے بھی تصدیقی سروس متعارف

نادرا نے مجاز بینکوں کے لیے بھی ایک علیحدہ تصدیقی سروس متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے بینک نیشنل پنشنرز رجسٹر سے کسی پنشنر کا پروف آف لائف اسٹیٹس براہِ راست چیک کر سکیں گے۔

اس ڈیجیٹل نظام سے پنشن کی ادائیگی کے لیے بار بار ذاتی حاضری اور کاغذی تصدیق پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔

نادرا کے مطابق اگلے مرحلے میں ضروری معاہدوں اور ادارہ جاتی انتظامات کی تکمیل کے بعد نیشنل پنشنرز رجسٹر کو دیگر وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں، پبلک سیکٹر اداروں اور نجی شعبے کے پنشنرز تک بھی توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔

نئے نظام کے ذریعے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف کی شرط پوری کرنا آسان بنانے کے ساتھ ساتھ پنشن کنٹرولرز اور بینکوں کو زیادہ بروقت، مستند اور تصدیق شدہ معلومات تک رسائی فراہم کی جائے گی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔