جمعہ، 15-مئی،2026
جمعہ 1447/11/28هـ (15-05-2026م)

چین کا چاند پر بھیجنے والا پہلا اے آئی روبوٹ تیار، پاکستان اور ایران بھی مشن میں شامل

15 مئی, 2026 12:18

چین 2029 تک چاند پر ایک جدید چار پہیوں والا اے آئی روبوٹ بھیج رہا ہے، جو روس، پاکستان اور ایران سمیت کئی ممالک کے آلات کو چاند کی سطح پر فعال کرے گا۔

چین نے خلائی تحقیق کے میدان میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ایک اور انقلابی قدم اٹھا لیا۔ 2029 میں روانہ ہونے والے ‘چانگ ای ایٹ’ مشن کے لیے چین نے ایک سو کلو گرام وزنی چار پہیوں والا اے آئی روبوٹ تیار کیا ہے، جو چاند کے جنوبی قطب پر ایک ‘انٹیلیجنٹ پورٹر’ یعنی قلی کے فرائض سرانجام دے گا۔

یہ روبوٹ نہ صرف سامان کی نقل و حمل کرے گا، بلکہ مختلف ممالک بشمول روس، ایران، پاکستان، ترکی اور اٹلی کے سائنسی آلات کو چاند کی سطح پر نصب بھی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں : پچاس سال بعد انسانیت کی چاند کی جانب واپسی، آرٹیمس ٹو کے دس روزہ مشن کا آغاز

اس روبوٹ کی خاص بات اس کی غیر معمولی نقل و حرکت ہے، یہ چار پہیوں کے باوجود اپنے پہیوں کے رداس سے دوگنا اونچی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ روایتی چھ پہیوں والے روبوٹس سے کہیں بہتر ہے۔

یہ روبوٹ چاند کی انتہائی سخت موسمی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور منفی ایک سو اسی ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں بھی چوبیس سے زائد قمری راتیں (جو کہ تین سو تیس گھنٹے طویل ہوتی ہیں) گزار سکتا ہے۔

یہ مشن دراصل چین اور روس کے مشترکہ عالمی قمری ریسرچ اسٹیشن کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ جہاں امریکہ کے آرٹیمس مشن کے ٹائم لائن میں تاخیر ہو رہی ہے، وہیں چین تیزی سے اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے۔

یہ روبوٹ مسلسل دو سال تک چاند پر کام کرے گا اور وہاں سے نمونے اکٹھے کر کے زمین پر بھیجے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی یہ اے آئی ٹیکنالوجی اسے خلائی دوڑ میں امریکہ کے مقابلے میں بہت آگے لے جائے گی۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔