پیر، 11-مئی،2026
پیر 1447/11/24هـ (11-05-2026م)

اب انسٹاگرام آپ کے خفیہ پیغامات پڑھ سکتا ہے؛ مگر کیوں؟ جانیے

11 مئی, 2026 14:41

انسٹاگرام کی جانب سے ڈائریکٹ میسجز میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ختم کیے جانے کے بعد صارفین کی پرائیویسی سے متعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

 یہ تبدیلی 8 مئی کے بعد سامنے آئی جس کی تصدیق ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کی۔ کمپنی کے مطابق یہ فیچر بہت کم صارفین استعمال کر رہے تھے، اسی لیے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

میٹا کی اس پالیسی تبدیلی نے آن لائن سیکیورٹی، بچوں کے تحفظ اور ذاتی معلومات کی نگرانی جیسے اہم سوالات کو دوبارہ سامنے لا دیا ہے۔ انسٹاگرام پہلے ہی کئی برسوں سے سائبر بُلیئنگ، آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے مسائل کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہا ہے۔

اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ایک ایسا نظام ہوتا ہے جس میں پیغام صرف بھیجنے والے اور وصول کرنے والے کے درمیان ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ اس میں پلیٹ فارم خود بھی پیغام نہیں دیکھ سکتا۔ یہ فیچر پہلے واٹس ایپ، سگنل اور آئی میسج جیسے پلیٹ فارمز میں عام طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ انسٹاگرام پر اسے محدود طور پر متعارف کروایا گیا تھا۔

میٹا کے مطابق انسٹاگرام پر یہ فیچر کبھی مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا اور زیادہ تر صارفین نے اسے آن ہی نہیں کیا۔ اسی کم استعمال کو بنیاد بنا کر اب اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کمپنی نے ایک ایسا فیچر ختم کیا جو پہلے ہی صارفین تک درست طریقے سے پہنچایا نہیں گیا تھا۔

اس تبدیلی کے بعد اب انسٹاگرام پر بھیجے جانے والے پیغامات میٹا کی رسائی میں آ سکتے ہیں۔ کمپنی کی پرائیویسی پالیسی کے مطابق یہ ڈیٹا سروس بہتر بنانے، اشتہارات کی ٹارگٹنگ اور دیگر تکنیکی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست چیٹس کو AI ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کرے گا، لیکن اشتہارات کے حوالے سے مکمل وضاحت موجود نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ میٹا کے پہلے “پرائیویسی فرسٹ” مؤقف سے ہٹ کر ہے۔ دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بچوں کے تحفظ کی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتی ہیں کہ انکرپشن کی وجہ سے بعض جرائم کی تفتیش مشکل ہو جاتی ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔