کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے اندھا دھند استعمال سے پیدا ہونے والا نیا معاشی بحران

تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پیداواری صلاحیت تو بڑھا رہی ہیں، لیکن ملازمین کو نکالنے کی وجہ سے بازار میں خریدار اور اشیاء کی مانگ مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے، جو معیشت کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔
مارچ کے مہینے میں وارٹن اور بوسٹن یونیورسٹی کے دو ماہرین اقتصادیات نے ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا، جس کا عنوان مصنوعی ذہانت کی برطرفی کا جال رکھا گیا ہے۔
یہ مقالہ مکمل طور پر ریاضیاتی اصولوں پر مبنی ہے اور دیگر ماہرین نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ کمپنیاں خودکار نظام یعنی آٹومیشن کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت تو لا محدود حد تک بڑھا لیتی ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں مارکیٹ سے مانگ بالکل صفر ہو جاتی ہے۔
اس کا طریقہ کار اس طرح کام کرتا ہے کہ اگر ایک کمپنی 500 ملازمین کو نکال کر ان کی جگہ مصنوعی ذہانت لاتی ہے، تو اس کی دیکھا دیکھی دوسری کمپنی 700 اور تیسری کمپنی 1000 ملازمین فارغ کر دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ بالادستی کیلئے عالمی قوانین توڑنے کو تیار، مستقبل کی جنگیں اے آئی سے لڑنے کا پلان
ہر کمپنی اپنے فائدے اور منافع کے لیے بالکل درست فیصلہ کر رہی ہوتی ہے۔ لیکن نقصان یہ ہوتا ہے کہ جن ملازمین کو نوکریوں سے نکالا گیا تھا، وہ بازار کے گاہک اور خریدار بھی تھے۔
جب ان کی آمدنی ختم ہوتی ہے تو وہ پیسے خرچ کرنا بند کر دیتے ہیں، جس سے بازار میں اشیاء کی مانگ گر جاتی ہے۔ مانگ گرنے پر کمپنیاں مزید لاگت کم کرنے کے لیے مزید ملازمین کو نکال کر مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھاتی ہیں اور یوں یہ چکر مسلسل چلتا رہتا ہے، جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں رہتا۔
محققین نے اس بحران سے بچنے کے تمام طریقوں جیسے کہ بنیادی آمدنی کی فراہمی، نئی مہارتیں سکھانا، دولت پر ٹیکس لگانا اور ملازمین کو کمپنی کا مالک بنانا وغیرہ کا تجربہ اپنے ماڈل میں کیا لیکن یہ سب ناکام ہو گئے۔
اس ماڈل میں صرف ایک ہی طریقہ پگووین آٹومیشن ٹیکس کارگر ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک ایسا ٹیکس ہے، جو کسی بھی کمپنی پر اس وقت لگایا جائے گا، جب وہ کسی انسان کی جگہ مصنوعی ذہانت کو لائے گی، تاکہ کمپنی کو اندازہ ہو سکے کہ وہ نوکری ختم کرکے مارکیٹ کی کتنی مانگ کو تباہ کر رہی ہے۔
ابھی تک دنیا کی کسی حکومت نے ایسا ٹیکس نہیں لگایا اور نہ ہی اس پر سنجیدگی سے بات ہو رہی ہے۔ دوسری طرف سن 2025 میں ایک لاکھ ٹیکنالوجی کے ملازمین اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور سن 2026 کے اوائل میں مزید 92 ہزار ملازمین کو نکال دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی دنیا بلکل اسی ریاضیاتی ماڈل کے راستے پر چل رہی ہے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












