نئے اور پرانے موبائل فونز پر ٹیکس ایک جیسا ہے یا الگ؟

پاکستان میں موبائل فون رجسٹریشن اور اس پر عائد ٹیکس کے حوالے سے صارفین کے درمیان کئی سوالات پائے جاتے ہیں۔
خاص طور پر بیرون ملک سے لائے گئے نئے اور استعمال شدہ موبائل فونز کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ پی ٹی اے دونوں فونز پر الگ الگ ٹیکس وصول کرتا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حکام نے اس معاملے کی اہم وضاحت کردی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ موبائل فون کی رجسٹریشن کے وقت نئے اور استعمال شدہ فون کے لیے ٹیکس کے اعتبار سے الگ درجہ بندی نہیں کی جاتی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کا بنیادی کام موبائل ڈیوائس کے آئی ایم ای آئی کی جانچ اور رجسٹریشن ہے۔ پی ٹی اے خود موبائل فون پر ٹیکس عائد یا وصول نہیں کرتا۔
حکام کے مطابق جب کوئی موبائل فون پاکستانی موبائل نیٹ ورک سے منسلک ہوتا ہے تو اس کے آئی ایم ای آئی کی بنیاد پر اس کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے غیر قانونی، جعلی یا غیر مطابقت رکھنے والے موبائل فونز کی شناخت کی جاتی ہے۔
موبائل فون پر واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹی کا تعین پی ٹی اے نہیں کرتا۔ یہ ذمہ داری ایف بی آر اور کسٹمز حکام کے متعلقہ نظام کے تحت آتی ہے۔ کسٹمز کی جانب سے فون کی نوعیت، قیمت اور دیگر متعلقہ عوامل کو دیکھتے ہوئے اس کی ویلیوایشن کی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر قابل ادائیگی ڈیوٹی اور ٹیکس کا حساب سامنے آتا ہے۔
استعمال شدہ موبائل پر ٹیکس کا معاملہ کیا ہے؟
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تجارتی مقدار میں درآمد ہونے والے نئے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹمز ویلیوایشن مختلف ہوسکتی ہے۔ اس وجہ سے دونوں فونز پر قابل ادائیگی رقم میں فرق پیدا ہوسکتا ہے۔
یعنی اگر کسی استعمال شدہ موبائل پر ٹیکس زیادہ نظر آرہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پی ٹی اے نے اسے نیا فون سمجھ کر ٹیکس لگایا ہے۔ اصل معاملہ کسٹمز کی جانب سے مقرر کردہ ویلیوایشن اور اس پر لاگو ہونے والے ٹیکس سے متعلق ہوتا ہے۔
جنوری 2026 میں تجارتی مقدار میں درآمد کیے جانے والے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کے لیے کسٹمز حکام کی جانب سے نئی ویلیوایشن بھی جاری کی گئی تھی۔ اس میں مختلف ماڈلز کے لیے کسٹمز ویلیو مقرر کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمرشل درآمدات میں استعمال شدہ فونز کے لیے ویلیوایشن کا الگ طریقہ موجود ہے۔
موبائل فون رجسٹریشن کیسے ہوتی ہے؟
پاکستان میں موبائل فون کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے آئی ایم ای آئی نمبر بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب فون پاکستانی نیٹ ورک پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس نمبر کے ذریعے ڈیوائس کو سسٹم میں چیک کیا جاتا ہے۔
اگر ڈیوائس رجسٹریشن کے تقاضے پورے کرتی ہے تو اسے پاکستانی نیٹ ورک پر استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ دوسری جانب جعلی، نقل شدہ یا غیر قانونی آئی ایم ای آئی رکھنے والی ڈیوائسز کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔
حکام کے مطابق پی ٹی اے کا ڈیوائس رجسٹریشن نظام یکم دسمبر 2018 سے نافذ ہے۔ اس کا مقصد صرف ٹیکس سے متعلق معاملات دیکھنا نہیں بلکہ غیر قانونی موبائل فونز کی شناخت اور انہیں پاکستانی موبائل نیٹ ورکس سے بلاک کرنا بھی ہے۔
موبائل فونز پر ڈیوٹی میں کمی کا معاملہ
اجلاس میں موبائل فونز پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔ ایف بی آر حکام کے مطابق سابق وفاقی بجٹ میں کسٹمز ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ 2030 تک جاری رہنے کی بات کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے اس پالیسی کا مقصد موبائل فونز کی درآمدی لاگت کم کرنا، مارکیٹ میں مسابقت بڑھانا اور مقامی موبائل فون صنعت کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے۔ تاہم صارفین کے لیے فون کی حتمی قیمت صرف کسٹمز ڈیوٹی سے طے نہیں ہوتی۔ دیگر ٹیکس اور ویلیوایشن بھی مجموعی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مقامی موبائل فون صنعت بھی زیر بحث
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان میں موبائل فونز کی مقامی تیاری کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکام نے بتایا کہ ملک میں موبائل فون مینوفیکچرنگ کا عمل جاری ہے۔ تاہم کئی اہم اجزا اب بھی بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں۔
موبائل فون صنعت کی نئی پالیسی پر بھی کام کیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مقامی صنعت کو مضبوط بنانا ہے تو صرف موبائل فون کی اسمبلی کافی نہیں ہوگی۔ مقامی سطح پر پرزہ جات کی تیاری، ٹیکنالوجی، ہنرمند افراد اور بہتر سپلائی چین بھی ضروری ہوگی۔
5G کے لیے موبائل فون ٹیکس کیوں اہم ہے؟
کمیٹی اجلاس میں 5G ٹیکنالوجی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ عالمی موبائل کمیونیکیشن صنعت کی جانب سے پاکستان میں موبائل فون ٹیکس کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
زیادہ ٹیکس کی وجہ سے جدید موبائل فون عام صارف کی پہنچ سے باہر ہوسکتے ہیں۔ اس کا اثر 5G کے پھیلاؤ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ 5G نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے کے لیے صارفین کے پاس جدید اور مطابقت رکھنے والے موبائل فون ہونا ضروری ہیں۔
اگر جدید فونز مہنگے رہیں تو نیٹ ورک دستیاب ہونے کے باوجود بہت سے صارفین نئی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اسی لیے موبائل فون ٹیکس پالیسی کو ڈیجیٹل رسائی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا بھی ضروری ہے۔
جعلی آئی ایم ای آئی والے فونز کے خلاف کارروائی
اجلاس میں جعلی آئی ایم ای آئی رکھنے والے موبائل فونز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق ایسے لاکھوں موبائل فونز کو بلاک کیا جاچکا ہے۔
آئی ایم ای آئی چیک کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ موبائل فون کا نمبر درست ہو اور وہ کسی دوسری ڈیوائس کے ساتھ نقل یا کلون نہ کیا گیا ہو۔ چوری شدہ یا غیر قانونی طور پر رپورٹ ہونے والی ڈیوائسز کی شناخت میں بھی یہ نظام مددگار ثابت ہوتا ہے۔
بیرون ملک سے موبائل فون لانے والوں کے لیے اہم بات
بیرون ملک سے پاکستان آنے والے شہریوں کے لیے موبائل فون رجسٹریشن کے قواعد بھی اہم ہیں۔ اگر کوئی نیا یا استعمال شدہ فون پاکستانی مقامی نیٹ ورک پر استعمال کرنا ہو تو اس کی آئی ایم ای آئی رجسٹریشن ضروری ہوتی ہے۔
اس لیے بیرون ملک سے موبائل فون لانے والے افراد کو خریداری سے پہلے اس کے ممکنہ ٹیکس اور رجسٹریشن تقاضوں کی معلومات حاصل کرلینی چاہیے۔ خاص طور پر استعمال شدہ فون خریدنے کی صورت میں کسٹمز ویلیوایشن اور قابل ادائیگی رقم کو ضرور دیکھنا چاہیے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











