پن کوڈ بمقابلہ پاس ورڈ!!! زیادہ محفوظ کیا ہے؟ جواب جان کر حیران رہ جائیں گے

اسمارٹ فون ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ فون میں ذاتی تصاویر، رابطے، بینکنگ معلومات اور مختلف آن لائن اکاؤنٹس موجود ہوتے ہیں۔ ایسے میں فون اور آن لائن اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے عام طور پر پاس ورڈ اور پن کوڈ استعمال کیے جاتے ہیں۔
اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ پاس ورڈ زیادہ محفوظ ہے یا پن کوڈ۔ دونوں کا کام ایک جیسا نہیں ہوتا۔ پاس ورڈ عام طور پر مختلف ویب سائٹس اور آن لائن اکاؤنٹس میں لاگ ان ہونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف پن کوڈ زیادہ تر کسی مخصوص ڈیوائس کو کھولنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
پاس ورڈ کے معاملے میں خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب ایک ہی پاس ورڈ کئی اکاؤنٹس کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر کسی ہیکر کو یہ پاس ورڈ معلوم ہو جائے تو وہ مختلف اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ذاتی معلومات چوری ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
پن کوڈ کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ عام ڈیوائس پن اسی فون یا مخصوص ڈیوائس سے منسلک ہوتا ہے۔ اسے دور بیٹھ کر کسی دوسری جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی شخص کو صرف آپ کا پن معلوم ہو لیکن اس کے پاس آپ کا فون نہ ہو تو وہ عام طور پر اس پن سے آپ کے آن لائن اکاؤنٹس میں لاگ ان نہیں کر سکتا۔
اسی وجہ سے بعض حالات میں پن کوڈ پاس ورڈ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کا پن مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اگر کوئی شخص بہت آسان پن رکھے تو اسے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا۔
مثلاً 1234، 0000 یا تاریخ پیدائش جیسے آسان نمبرز استعمال کرنا مناسب نہیں۔ ایسے پن کوڈز کا اندازہ دوسرے لوگ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ اس لیے فون کی حفاظت کے لیے نسبتاً مشکل پن استعمال کرنا بہتر ہے۔
اسمارٹ فونز میں اب پاس کیز کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاس کیز ایسی ڈیجیٹل چابیاں ہیں جو روایتی پاس ورڈ کے متبادل کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے صارف بائیومیٹرک تصدیق یا ڈیوائس کے پن کی مدد سے کسی ویب سائٹ یا ایپ میں لاگ ان کر سکتا ہے۔
پاس کیز کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ روایتی پاس ورڈ کی طرح اصل خفیہ معلومات ویب سرور پر محفوظ نہیں کی جاتی۔ اس وجہ سے پاس ورڈ چوری ہونے یا کسی ڈیٹا لیک میں سامنے آنے جیسے بعض خطرات کم ہو سکتے ہیں۔
جب کسی ویب سائٹ یا ایپ پر پاس کیز فعال ہوں تو صارف کو لاگ ان کے وقت اپنے فون کی تصدیق مکمل کرنا ہوتی ہے۔ یہ عمل پن، فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت کے ذریعے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہر بار لمبا پاس ورڈ یاد رکھنے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آن لائن سکیورٹی کے لیے صرف پاس ورڈ یا پن کوڈ پر انحصار کرنا کافی نہیں۔ ہر اہم اکاؤنٹ کے لیے منفرد اور مضبوط پاس ورڈ رکھنا چاہیے۔ جہاں ممکن ہو، دو مرحلہ تصدیق یا پاس کیز جیسے جدید سکیورٹی طریقے بھی استعمال کرنے چاہئیں۔
فون کی سکیورٹی کے لیے بائیومیٹرک لاک بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت کے ساتھ مضبوط پن رکھنے سے ڈیوائس کی حفاظت مزید بہتر کی جا سکتی ہے۔ تاہم صارف کو اپنا پن کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے۔
مجموعی طور پر پاس ورڈ اور پن کوڈ کا استعمال مختلف مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ فون کو لاک کرنے کے لیے مضبوط پن ایک بہتر حفاظتی طریقہ ہو سکتا ہے، جبکہ آن لائن اکاؤنٹس کے لیے منفرد پاس ورڈ یا پاس کیز زیادہ مناسب ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صارف آسان نمبرز یا ایک ہی پاس ورڈ کو ہر جگہ استعمال کرنے سے گریز کرے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











