واٹس ایپ نے سکیورٹی مزید مضبوط بنانے کیلئے 3 نئے فیچرز متعارف کروا دیئے

واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے اکاؤنٹس کو مزید محفوظ بنانے کے لیے سکیورٹی کے 3 نئے فیچرز متعارف کروانے کا اعلان کردیا ہے۔
میٹا کے مطابق ان نئے فیچرز کا مقصد اکاؤنٹ سکیورٹی بہتر بنانا اور صارفین کو ممکنہ ہیکنگ اور مشکوک رابطوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ نئے فیچرز کی فراہمی کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور آنے والے ہفتوں میں یہ سہولیات تمام صارفین تک پہنچ جائیں گی۔
واٹس ایپ میں پہلے ہی ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کی سہولت موجود ہے۔ اس میں صارف 6 ہندسوں پر مشتمل پن کوڈ استعمال کرتا ہے۔ اس کا مقصد کسی دوسرے شخص کو اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ اب کمپنی اس سکیورٹی نظام کو مزید بہتر بنانے جا رہی ہے۔ صارفین کو مستقبل میں 6 ہندسوں کے پن کے بجائے زیادہ مضبوط حروف اور نمبروں پر مشتمل پاس ورڈ منتخب کرنے کا آپشن بھی ملے گا۔
نئے طریقے سے صارفین اپنے اکاؤنٹس کے لیے زیادہ پیچیدہ پاس ورڈ بنا سکیں گے۔ اس سے ہیکرز کے لیے پاس ورڈ کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مضبوط سکیورٹی صارفین کے اکاؤنٹس کو غیر مجاز رسائی سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔
واٹس ایپ نے پاس کیز کے فیچر میں بھی اہم بہتری کا اعلان کیا ہے۔ اب پاس کیز استعمال کرنے والے افراد اپنے اکاؤنٹ میں ایک سے زیادہ پاس کیز شامل کرسکیں گے۔ یہ سہولت خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہوگی جو ایک سے زیادہ ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں۔
پاس کیز روایتی پاس ورڈ کے مقابلے میں مختلف طریقے سے کام کرتی ہیں۔ ان میں لاگ ان کے لیے ڈیوائس کا پن کوڈ یا بائیومیٹرک تصدیق، جیسے فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس طریقے میں صارف کو ہر بار پیچیدہ پاس ورڈ یاد رکھنے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔ پاس کیز کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کی تصدیق کا حساس حصہ عام طور پر ویب سرور پر روایتی پاس ورڈ کی طرح محفوظ نہیں کیا جاتا۔
نیا اپ ڈیٹ آئی فون اور اینڈرائیڈ دونوں استعمال کرنے والے افراد کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک سے زیادہ پاس کیز شامل کرنے کی سہولت سے صارفین مختلف ڈیوائسز پر اپنے اکاؤنٹ کی رسائی کو زیادہ آسانی سے منظم کرسکیں گے۔
واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک اور سکیورٹی فیچر بھی متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ایسے نمبرز سے آنے والی کالز کے بارے میں صارفین کو زیادہ معلومات فراہم کی جائیں گی جو ان کے کانٹیکٹس میں محفوظ نہیں ہیں۔
اس نئے فیچر کے ذریعے صارف کو یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ کال کرنے والا نمبر کس ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ کال کرنے والا شخص ایسے کسی گروپ کا حصہ ہے جس میں صارف خود بھی شامل ہے۔ اس معلومات سے صارف کے لیے نامعلوم کالز کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
واٹس ایپ کے مطابق نئے سکیورٹی فیچرز کی فراہمی شروع کردی گئی ہے۔ تاہم تمام صارفین کو یہ سہولیات ایک ساتھ دستیاب نہیں ہوں گی۔ کمپنی مرحلہ وار ان فیچرز کو صارفین تک پہنچائے گی۔ آنے والے ہفتوں میں مزید صارفین نئے سکیورٹی آپشنز استعمال کرسکیں گے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











