ترک انتخابات میں رجب طیب اردگان کی برتری، فیصلہ رن آف میں ہونے کا امکان

ترکی کے انتخابات میں رجب طیب اردگان کی حکمراں جماعت نے سبقت حاصل کرلی، تاہم معاملہ رن آف الیکشن کی جانب بڑھتا نظر آرہا ہے۔
ترکی میں عثمانی دور کے بعد پہلے انتہائی اہم انتخابات ہوئے، جس کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ اندازوں کے برخلاف تک صدر رجب طیب اردگان اپنے سیکولر حریف سے آگے نکل گئے ہیں، تاہم واضح کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ مگر اپوزیشن نے بھی حکومتی جماعت کو لوہے کے چننے چبوا دیئے ہیں۔
ترک سرکاری خبر رساں ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق اردگان نے 49.4 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما کمال کلیک دار اوغلو 45.0 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ترک صدر کا کہنا ہے کہ میں پورے دل سے یقین رکھتا ہوں کہ ہم آنے والے پانچ سالوں میں اپنے لوگوں کی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی اسلامی حکمران جماعت اور اس کے الٹرا نیشنلسٹ اتحادیوں نے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ترکیہ: اپوزیشن رہنما کا صدارتی الیکشن میں روسی مداخلت کا الزام
ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کے عوام نے ہمیں منتخب کرلیا ہے۔ ترکی اور عوام الیکشن جیت گئے۔ عوام کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ قوم کا فیصلہ سرکاری نتائج کیساتھ ہی سامنے آجائے گا۔ 50 فیصد سے زائد ووٹ لے کر جیت جاؤں گا۔ ہم قومی رائے کا احترام کرتے رہیں گے۔
74 سالہ بڑے اپوزیشن رہنماء کلیک دار اوغلو نے ابتدائی طور پر برتری حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اب وہ قدرے مایوس نظر آئے اور انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رن آف ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔
دمشق اور ماسکو کے ساتھ ساتھ واشنگٹن اور برسلز کے لیئے بھی ترک انتخابات انتہائی اہم ہے، جو خطے کی آئندہ کی سیاست کا فیصلہ کرے گی۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












