جمعہ، 19-جون،2026
جمعرات 1448/01/03هـ (18-06-2026م)

ایون فیلڈ ریفرنس: نوازشریف کی سزا کا فیصلہ کالعدم، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کردیا

29 نومبر, 2023 16:29

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کردیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف نوازشریف کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سماعت کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد ن لیگ کے قائد نوازشریف کو ایون فیلڈ کیس میں بری کردیا، عدالت نے احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

دوسری جانب نیب نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کیخلاف اپیل واپس لے لی ہے، عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کیخلاف اپیل واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی ہے۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے نواز شریف کو ایوان فیلڈ ریفرنس میں دس سال سنائی تھی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی تو نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف پیش کیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو سیکشن 9 اے سے بری قرار دیا تھا۔

وکیل امجد پرویز نے نیب آرڈیننس کا سیکشن 9 اے 5 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سیکشن9 اے 5 کے تحت استغاثہ کو کچھ حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں، سیکشن 9 اے 5 کا تقاضا ہے کہ ملزم کو پبلک آفس ہولڈر ثابت کیا جائے، نیب آرڈیننس میں بے نامی دار لفظ کی تعریف کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ میرے خیال میں سزا معطلی بھی اسی بنیاد پر ہوئی، سزامعطلی کے فیصلے میں ہم نےسپریم کورٹ کے فیصلوں کا سہارا لیا۔

وکیل امجد پرویز نے مؤقف اختیار کیا کہ معلوم ذرائع آمدن کا اثاثوں کی مالیت سے موازنہ کرنا ہوتا ہے، یہ مقدمہ ایسا ہے جس میں مندرجات ہی ثابت نہیں کیے گئے، انہوں نے جرم کے تمام جز ثابت کرنے تھے، لیکن نہیں کیے۔

وکیل امجد پرویز نے عدالت میں نوازشریف کے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال

چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ اثاثہ جات ایک ہی وقت میں آئی ہیں یا الگ الگ، جس پر وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ 1993سے 1996 کے درمیان یہ پراپرٹیز آئی ہیں۔

جسٹس میاں گل حسن ریمارکس دیئے کہ معلوم ہے بے نامی کے مرکزی مندرجات کیا ہیں، آپ نیب قانون میں بے نامی کےحوالے سے معاونت کریں۔

وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کورٹ نے مفروضے پر سزا دی، فیصلے میں ثبوت کے بجائے عمومی بات لکھی، عدالت نے کہا کہ مریم نواز بینفشل اونر اور زیر کفالت بھی تھیں، لکھا کہ بچے والد کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔