سردیوں میں بجلی پیداوار طلب سے زیادہ پھر بھی لوڈ شیڈنگ کیوں؟

ایک وقت تھا جب سردیوں میں بجلی کی قلت نہیں ہوتی تھی مگر اب گرمی تو چھوڑیں سخت سردی میں بھی 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ جاری ہے، پاکستان میں یہ ایک کڑوا سچ ہے مگر اسکا ذمہ دار کون ہے؟ لوڈ شیڈنگ کے باوجود بجلی کے بھاری بل کمر توڑ مہنگائی میں عوام کیلئے ڈرائونا خوب بن چکے ہیں؟ سردیوں میں بجلی زیادہ ہونیکے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کیوں کی جاتی ہے، آئیے حل کرتے ہیں یہ معمہ
بزنس ریکارڈر ریسرچ رپورٹ میں ناقص منصوبہ بندی، کرپشن، بدانتظامی کا بھانڈہ پھوڑا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سردیوں میں لوڈ شیڈنگ کی متعدد وجوہات ہیں جیسے ہائیڈل سسٹم کی عدم دستیابی، ڈالر کی قلت کے باعث مہنگے ایندھن پر انحصار، خوفناک اسموگ، مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، درحقیقت اس مسئلے کی بنیادی وجہ ناقص پلاننگ اور فرسودہ ٹرانسمیشن سسٹم ہے جس پر کبھی سرمایہ کی ہی نہیں گئی۔
ناقص منصوبہ بندی کی اعلیٰ مثال یہ ہے کہ بجلی استعمال کا 80 فیصد بوجھ گدو کے شمال میں ہے جبکہ سستے بیس لوڈ فیول آپشنز(نیوکلیئر کے 2 اور کے 3) جنوب میں بنائے گئے ہیں جبکہ مہنگے ایندھن کے بجلی پلانٹس (ایف او، آر ایل این جی) شمال میں تعمیر کیے گئے ہیں، اس باعث جب سردیوں میں بجلی کی طلب کم ہوتی ہے تو 500 کے وی ٹرانسمیشن لائنوں پر وولٹیج بڑھ جاتا ہے، اسموگ کی حالت میں ٹرپ کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ مختلف ٹرانسمیشن انٹر فیس پر فرسودہ سوئچ گیئر کے باعث پورا سسٹم بیٹھ جاتا ہے اور ملک اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے جیسا کہ پچھلے تین سالوں میں دو بار ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4 روپے 12 پیسے کا اضافہ
بڑے بریک ڈائون سے بچنے اور ناقص منصوبہ بندی چھپانے کیلئے جنوب سے شمال کی طرف کم صلاحیت (کے 2 اور کے 3) سے بجلی کی منتقلی کو روک دیا گیا ہے، اس باعث بجلی کی منتقلی محدود ہونیکی وجہ سے نیوکلیئر پلانٹس پیداواری صلاحیت سے کم چلائے جاتے ہیں اور ناقص منصوبہ بندی اور سرکاری اداروں کی مجرمانہ غفلت چھپانے کیلئے عوام سردی میں لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیل رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس مسئلے کا حل بھی موجود ہے، شمال میں موجود پلانٹس (ہائیڈل کے سوا) کو استعمال کیا جا سکتا ہے مگر یہ فیول سے چلتے ہیں اور تیل درامد کیلئے ڈالر درکار ہیں سو یہ حل موجودہ صورتحال میں قابل عمل نہیں رہا، اس صورت میں فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹس کو استعمال کر کے مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے، فرنس آئل ملک میں ہی بنایا جاتا ہے زرمبادلہ کی ضرورت نہیں، مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹس اتنے پرانے ہیں کہ پیداواری صلاحیت نہیں رکھتے، حکام نے ان پلانٹس کو کارامد رکھنے کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کی پیداواری منصوبہ بندی گزشتہ دہائی میں اتنی عجلت میں اور اتنی ناقص کی گئی جو پورے بجلی نظام کیلئے مسئلہ بن گئی ہے۔ مثال کے طور پر نیوکلیئر پلانٹس یعنی کے 2 اور کے 3 شمال میں تعمیر ہونے چاہیئے تھے، کوئلہ تھر سے آ رہا تھا۔ سرمایہ کاری اگر کرنی تھی تو ٹرانسمیشن سسٹم پر کرنی چاہیے تھی تا کہ نیشنل بریک ڈائون کا سب سے بڑا خطرہ ختم کیا جائے جیسا کہ دو بار جنوری میں ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سردیوں میں لوڈ شیڈنگ سے بچنے کیلئے حکومت کو اقدامات اٹھانے چاہیئے، جنوب سے شمال تک ٹرانسمیشن لائنوں پر متعدد انٹرفیس اور نوڈس ہیں، یہ گرمیوں میں ٹھیک کام کرتے ہیں کیونکہ جنوبی پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں بجلی منتقلی کا کام جاری رہتا ہے، لیکن سردیوں میں یہ نظام الٹا کام کرنا چاہیئے چونکہ شمال کے صارفین بھی اسی پر انحصار کرتے ہیں چونکہ ہائیڈل پیداور کم ہو جاتی ہے، یہاں ٹرانسمیشن لائن مسئلہ پیدا کرتی ہے کیونکہ متنتقلی کا راستہ طویل ہو جاتا ہے۔،یہ مسئلہ نہ ہوتا اگر بیس لوڈ جنریشن شال میں نصب کی جاتی۔
اب حل صرف یہ ہے کہ نئی ٹرانسمیشن لائنیں تعمیر کی جائیں اور موجود لائنوں کے انٹرفیس اور نوڈس کی درستگی کی جائے، اسموگ ایک حقیقت ہے پرانی لائنوں کو اس حوالے اپ گریڈ کیا جائے جبکہ نئی ٹرانسمیشن لائنیں اسموگ کو پیش نظر رکھ کر بنائی جائیں، پاکستان کوئی اکلوتا ملک نہیں دنیا کے کئی ممالک اسموگ جھیلتے ہیں مگر بجلی کا نظام ترسیل میں دھوکہ نہیں دیتا۔
ایک بڑا مسئلہ این ٹی ڈی سی اور ڈسکوز (بجلی تقسیم کار محکمے) میں افرادی قوت، جدید ماہرین اور منصوبہ سازوں کی کمی ہے۔
جنوری 2021 اور جنوری 2023 میں نیشنل بریک ڈائون، دونوں بار پورا ملک اندھیرے میں ڈوبا رہا، دیکھنا یہ ہے کہ جنوری 2024 میں کیا ہوگا؟
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












