ہفتہ، 15-اگست،2026
ہفتہ 1448/03/02هـ (15-08-2026م)

طالبان کے اقتدار کے 5 سال، خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں پر پابندیاں برقرار

15 اگست, 2026 12:22

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے پانچ سال مکمل ہونے کے قریب ہیں، تاہم انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور بنیادی شہری حقوق کی صورتحال بدستور عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی ادارے طالبان کی پالیسیوں کے باعث خواتین اور دیگر افغان شہریوں کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ویمن کی رپورٹس کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے خلاف متعدد احکامات اور پابندیاں نافذ کی گئیں، جنہوں نے تعلیم، روزگار، نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت کو شدید متاثر کیا۔

رپورٹ کے مطابق افغان خواتین کی تعلیم اور روزگار پر عائد پابندیوں کے باعث ملک میں خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی کمی کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو 2030 تک افغانستان میں 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کے نافذ کردہ بعض فوجداری ضوابط نے خواتین کی قانونی حیثیت اور انصاف تک رسائی کو مزید متاثر کیا ہے۔ پابندیوں کے باعث خواتین کے لیے قانونی تحفظ اور اپنے حقوق کے حصول کے مواقع محدود ہوگئے ہیں۔

طالبان کی سخت گیر پالیسیوں نے خواتین کی روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغان خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر سے باہر نکلنے کو غیر محفوظ سمجھتی ہے، جبکہ تعلیم، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں پر پابندیوں نے خواتین کو معاشرے میں محدود کردار تک دھکیل دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (یوناما) نے بھی خواتین کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن اور پابندیوں کے مختلف واقعات کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم مخصوص واقعات سے متعلق تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

انسانی حقوق کی صورتحال کے ساتھ افغانستان میں غذائی بحران بھی ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق ملک میں لاکھوں بچوں اور حاملہ خواتین کو شدید غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کا سامنا ہے، جبکہ انسانی امداد کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔

سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بھی اقوام متحدہ کی رپورٹس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یوناما نے مختلف ادوار میں سابق افغان فوجی اہلکاروں کی گرفتاری، ہلاکت اور تشدد کے واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ سمیت عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے حقوق بحال کرے، جبکہ من مانی گرفتاریوں اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ کیا جائے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔