"غزہ جنگ بندی؛ یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد مشکل ہے”

جنگ بندی ہوگی تو! یرغمالیوں کی فہرست تیار کریں گے، حماس (فوٹو: فائل)
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم کے سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی اور مذاکرات کو مزید مشکل بنادیا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے یہ معلومات دو امریکی حکام اور ایک عرب سفارت کار کے حوالے سے دی ہیں۔ دراصل بائیڈن انظامیہ نے 16 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کے ایک آپریشن میں سنوار کی موت کو یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے مذاکرات میں ایک اہم موڑ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے یہ دلیل دی تھی کہ حماس سربراہ یحییٰ سنوار امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔
حالانکہ قطر اور مصر کا کہنا ہے کہ سنوار کے قتل نے حماس میں قیادت کا خلا پیدا کردیا ہے جسے پر کرنا گروپ کے لیے مشکل ہو گا۔ حکام نے کہا کہ عرب ثالثوں کے خدشات کو گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ شیئر کیا جاچکا ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی؛ نیا فارمولا منظر عام پر آگیا
ثالثوں نے بتایا کہ یحییٰ سنوار نے غزہ کے تمام گروپوں کی وفاداری بنائے رکھی تھی، جن میں فلسطینی اسلامی جہاد جیسے گروپ بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب مزاحمتی تنظیم کے پاس اب بھی 101 اسرائیلی یرغمالی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: "اسرائیل نے فلسطینی بچوں کے قتل عام کا منصوبہ بنالیا ہے”
حماس کی قیادت اب ایک کونسل کر رہی ہے، جس میں کئی سینئر اراکین شامل ہیں، جو مستقبل قریب میں اپنا نیا سربراہ مقرر کر سکتی ہے۔ حالانکہ عرب ثالثوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ سنوار کا جانشین غزہ میں مرکزی اتھارٹی کو برقرار رکھنے میں اتنا کامیاب نہیں ہو گا، جس سے یرغمالیوں کے معاہدے پر عمل درآمد میں لاجسٹک رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز غزہ میں نئی جنگ بندی معاہدے میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ 28 روز کی مدت کیلئے جنگ بندی کے عوض فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس 8 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے جبکہ اسکے برعکس اسرائیل درجنوں قید فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












