اسرائیل کی پھر دوہری چال؛ غزہ سے فوجیں نکالنے سے انکار

اسرائیل کی پھر دوہری چال؛ غزہ سے فوجیں نکالنے سے انکار (فوٹو: فائل)
قابض ریاست اسرائیل اور فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ آج یکم مارچ کو اختتام پذیر ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسرے مرحلے کے حوالے سے اسرائیل، قطر اور حماس کے وفود کے درمیان کل جمعہ کو قاہرہ میں ہونے والی مشاورت کے بارے میں تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔
اسرائیلی تجویز
حماس نے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں 42 دن کی توسیع کی تجویز مسترد کردی ہے اور کہا کہ معاہدے کے مطابق دوسرے مرحلے کو یقینی بنایا جائے۔
مزید پڑھیں: "غزہ میں قتل عام؛ اسرائیل کو بندرگاہ پر آنے کی اجازت نہیں دیں گے”
جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں زندہ مرد فوجیوں اور شہریوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جائے گا جبکہ مارے جانے والے یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔

رپورٹس کے مطابق غزہ میں اس وقت 94 یرغمالی موجود ہیں جن میں سے 34 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، اس کے علاوہ 4 مزید اسرائیلی شہری بھی موجود ہیں جنہیں جنگ کے شروع ہونے سے قبل اغوا کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: "حماس کو غیر مسلح اور ختم کیے بغیر کسی معاہدے کی پاسداری نہیں ہوگی”
اسرائیل تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بعد ہی اپنے فوجیوں کو مکمل طور پر واپس بلالے گا۔
اس کے بعد یہ مبینہ طور پر غزہ کے مشرقی اور شمالی اطراف میں 800 میٹر چوڑے بفر زون برقرار رکھے گا جو اسرائیل کی سرحد سے متصل ہے اور غزہ پر سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی غزہ سے متعلق اے آئی ویڈیو؛ قبضہ کرنے کا نیا طریقہ قرار
تاہم اب اسرائیل نے موقف اپنایا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے سے قبل معاہدے کا پابند نہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 19 جنوری کو شروع ہونے والے تین مرحلوں پر مشتمل معاہدے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کے بدلے 8 لاشوں سمیت 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










