امریکا اور ایران امن معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، امریکی اہلکار کی تصدیق

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے تجویز کردہ نئے معاہدے میں لبنان کا معاملہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے کیلئے جو نیا معاہدہ تجویز کیا گیا ہے، اس کا دائرہ کار صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اس میں لبنان، خلیجی ممالک اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ کے رکن حسن فضل اللہ نے اس حوالے سے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے اثرات براہ راست لبنان پر مرتب ہوں گے، خواہ لبنانی حکومت اسے قبول کرے یا نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فوج کا آبنائے ہرمز میں معتدد ایرانی ڈرونز گرانے کا دعویٰ
حسن فضل اللہ، جو کہ لبنانی مزاحمتی بلاک کے اہم رکن ہیں، کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کو اکیلا نہیں چھوڑے گا اور وہ اپنے ہر معاہدے میں لبنانی فائل کو شامل کرنے پر اصرار کرے گا کیونکہ یہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف لبنان کیلئے ایک بڑی طاقت کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنانی مزاحمتی تحریک کو ایران پر پورا بھروسہ ہے اور اس وقت پہلی ترجیح اسرائیل کی وجودی جنگ اور جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، جبکہ لبنانی حکام کی جانب سے اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے یا گھٹنے ٹیکنے کی کسی بھی کوشش کو مزاحمت کی ڈکشنری میں قبول نہیں کیا جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












