جمعرات، 13-اگست،2026
جمعرات 1448/02/30هـ (13-08-2026م)

پاکستان کی عسکری طاقت، سعودی دولت اور ترک ٹیکنالوجی کا ملاپ؛ امریکی جریدے نے ایک مضبوط نئے دفاعی صنعتی مرکز کی بنیاد قرار دے دیا

13 اگست, 2026 11:59

امریکی جریدے نیشنل انٹرسٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتے دفاعی تعاون کو ایک مضبوط نئے دفاعی صنعتی مرکز کی بنیاد قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں گہرے سفارتی اور عسکری روابط کے ساتھ ایک مربوط دفاعی صنعتی نظام کی شکل اختیار کرسکتا ہے، جس میں پاکستان کی دفاعی پیداواری صلاحیت، سعودی عرب کے مالی وسائل اور ترکی کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

نیشنل انٹرسٹ کے مطابق پاکستان عالمی دفاعی منڈی میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے اور زمینی، بحری اور فضائی دفاعی نظام کی وسیع رینج برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کی بکتر بند گاڑیوں، ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بڑے پیمانے پر پیداوار کو سعودی سرمایہ کاری اور ترک جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنے کی اہم صلاحیت قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کی دفاعی صنعت کی اہمیت

نیشنل انٹرسٹ کے مطابق پاکستان کی دفاعی صنعت کی اہم صلاحیتوں میں مرمت، دیکھ بھال اور لاجسٹک سپورٹ بھی شامل ہیں، جو جدید دفاعی نظام کو طویل عرصے تک فعال رکھنے کیلئے انتہائی اہم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگی سازوسامان کی اسمبلی، تیاری اور تعمیرِ نو کی صلاحیتوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی، جس سے ملک کا دفاعی صنعتی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوا۔

پاکستان کی دفاعی صنعت معیار، بڑے پیمانے پر پیداوار اور نسبتاً کم لاگت کے ساتھ زمینی، بحری اور فضائی دفاعی نظام عالمی منڈی کو فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دفاعی پیداوار میں پاکستان کا کردار

رپورٹ میں پاکستان کے مختلف دفاعی اداروں کی صلاحیتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بکتر بند گاڑیوں، پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس جنگی و تربیتی طیاروں اور بغیر پائلٹ فضائی نظام جبکہ کراچی شپ یارڈ جنگی بحری جہازوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

نیشنل انٹرسٹ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ ان صلاحیتوں کو سعودی سرمایہ کاری اور ترک اعلیٰ ٹیکنالوجی کے ساتھ یکجا کرکے مشترکہ دفاعی پیداوار اور برآمدات کی بنیاد قائم کرسکتا ہے۔

عالمی دفاعی صنعت میں نئی قوت

رپورٹ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا مشترکہ تعاون عالمی دفاعی پیداوار اور برآمدات میں ایک نئی قوت کے طور پر سامنے آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ تعاون امریکا کی دفاعی پیداواری صلاحیت پر موجود دباؤ کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ محدود دفاعی بجٹ رکھنے والے ممالک کیلئے جدید دفاعی سامان تک رسائی کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

یوں پاکستان کی عسکری مہارت، سعودی عرب کے مالی وسائل اور ترکی کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کا امتزاج مستقبل میں تینوں ممالک کو عالمی دفاعی صنعت میں زیادہ مؤثر مقام دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔