داؤ پر لگی معیشت اور مڈٹرم انتخابات، ایران سے معاہدہ امریکا کی ضرورت بن گیا

امریکی صدر نے ایران پر حملوں کی نئی لہر آخری لمحات میں منسوخ کر دی ہے جبکہ اندرونی رپورٹس کے مطابق معاشی اور فوجی نقصانات کی وجہ سے امریکا کو اس وقت ایران سے زیادہ معاہدے کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا ایک اور سلسلہ آخری وقت میں منسوخ کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایک امن معاہدہ بہت جلد متوقع ہے، تاہم ان کا مؤقف مسلسل بدل رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اب تک کم از کم 8 بار ایران کو تباہ کرنے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، جس کی وجہ سے ناقدین نے ان کا نام "ٹاکو” یعنی ہمیشہ پیچھے ہٹ جانے والا رکھ دیا ہے۔
ٹرمپ نے 21 مارچ کو ایران کو مٹانے، 31 مارچ کو پاور گرڈ تباہ کرنے، 2 اپریل کو پتھر کے دور میں دھکیلنے اور 11 جون کو شدید ترین حملے کرنے کی دھمکیاں دیں، لیکن ہر بار حملے منسوخ کیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 39 بار یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ معاہدہ بالکل قریب ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مائیکرو الیکٹرانکس ریسرچ میں ایران تمام اسلامی ممالک میں پہلے نمبر پر آ گیا، رپورٹ
امریکی سفارت کاری کا پرانا ماڈل اب ناکام ہو چکا ہے اور ٹرمپ کے پاس ایران کو اپنی شرائط پر لانے کا کوئی راستہ نہیں جبکہ ایران کا 14 نکاتی منصوبہ امریکا کے لیے ایک بڑی شکست کی مانند ہے۔
مڈٹرم انتخابات قریب ہیں، امریکا معاشی مندی کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کا لائف لائن سمجھا جانے والا اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو 349.2 ملین بیرل تک گر گیا ہے، جو 1983 کے بعد سب سے کم ترین سطح ہے۔
پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ پر اب تک 109 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لاگت 300 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈے ناقابل استعمال ہو چکے ہیں اور امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کی وجہ سے ٹرمپ کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










