شن بیت کا بھی آپریشن طوفان الاقصیٰ کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف

شن بیت کا بھی آپریشن طوفان الاقصیٰ کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف
اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت نے بھی آپریشن طوفان الاقصیٰ کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کرلیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شن بیت نے ناکامیوں کی تحقیقات پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے، ایجنسی کے سربراہ رونن بار نے تسلیم کیا کہ اگر ایجنسی مختلف طریقے سے کام کرتی تو قتل عام سے بچا جا سکتا تھا۔
رونن بار کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ شن بیت نے دشمن کو غیر اہم سمجھا۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی خاموشی کو برقرار رکھنا تھی جس نے حماس کی بڑے پیمانے پر طاقت کی تشکیل کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے، میں زندگی بھر شکست کے اس بھاری بوجھ کو اپنے کندھوں پر برداشت کروں گا۔
تحقیقات کے خلاصے میں اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسی شین بیت نے کہا ہے کہ حماس کی تباہ کن حملے کی صلاحیت کے لیے بہت سے عوامل ذمہ دار ہیں۔
2018 اور 2022 میں حماس کی جانب سے وسیع پیمانے پر حملے کے منصوبے سے آگاہ کیے جانے کے باوجود، جسے "جیریکو کی دیواریں” کے نام سے جانا جاتا ہے، سیکیورٹی ایجنسی ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گرد حملے کو روکنے میں ناکام رہی۔
شین بیت نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسی کو متعدد اشارے ملے ہیں کہ حماس ہنگامی صورتحال کی تیاری کر رہی ہے، لیکن انہوں نے اس منصوبے کو کبھی بھی فعال خطرے کے طور پر نہیں دیکھا۔
رپورٹ کے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی کے پاس غزہ میں "انسانی ایجنٹوں کی بھرتی اور آپریشن” میں بہت زیادہ خلل تھا اور یہ واضح نہیں تھا کہ غزہ سے حملے کا پتہ لگانے کے لئے شین بیٹ اور اسرائیلی فوج کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










