افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف عوامی تحریکیں منظم ہونے لگیں

افغانستان میں طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں اور عوامی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ملک کے اندر سے مزاحمتی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
افغانستان میں طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ سوچ اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف عوامی سطح پر تحریکیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی جابرانہ پالیسیوں نے جہاں ملک کو عالمی تنہائی کا شکار کر دیا ہے وہیں، عوام میں ان کے خلاف نفرت کی لہر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود نے افغان انٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا ظالمانہ دور اب اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں طالبان کی نااہلی، پولیو کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، عالمی ادارے کی تشویش
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان کے تسلط کے خلاف تمام عوامی تحریکوں کا اتحاد اور باہمی ہم آہنگی ہی اس وقت بہترین حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
احمد مسعود نے طالبان کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کر دیا کہ ان کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور اسے انتشار پھیلانے کی ایک منظم کوشش قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف افغان سیاسی گروہ اب بنیادی اصولوں پر متفق ہو رہے ہیں اور ان کی اصل طاقت عوام ہیں، جو کسی بھی سازشی پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان نے عوامی مینڈیٹ کے بجائے بندوق کے زور پر اقتدار حاصل کیا ہے، جسے دنیا کا کوئی بھی قانون جائز قرار نہیں دیتا۔
ماہرین کے مطابق شدت پسندوں کی مبینہ سرپرستی اور انتظامی ناکامیوں نے افغان عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں کسی بڑی تبدیلی کے امکانات واضح نظر آ رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











