ہفتہ، 23-مئی،2026
ہفتہ 1447/12/06هـ (23-05-2026م)

امریکا کے غیر حقیقی مطالبات پاکستان کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں؛ ایران

23 مئی, 2026 09:46

تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی ایک نئے موڑ پر آ گئی ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلیفونک رابطے میں بے باکی سے کہا کہ امریکا کے "ضرورت سے زیادہ اور غیر حقیقی مطالبات” ہی وہ بنیادی دیوار ہیں جو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔

یہ بیان محض سفارتی لفاظی نہیں بلکہ یہ ایران کی اس حکمتِ عملی کی عکاسی ہے کہ وہ خود کو "سنجیدہ فریق” ظاہر کرتے ہوئے ناکامی کی ذمہ داری واشنگٹن پر ڈالے۔

پس منظر: یہ مذاکرات کہاں سے شروع ہوئے؟

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تناؤ کئی دہائیوں پرانا ہے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) ایک تاریخی پیش رفت تھی، مگر 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر اس سے دستبرداری اختیار کر لی اور ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس "وعدہ خلافی” کا ایران نے گہرا نوٹس لیا، اور یہی تاریخی بدگمانی آج کے مذاکرات پر بھی سایہ ڈالے ہوئے ہے۔

پاکستان نے اس موقع پر ثالث کا کردار اس لیے قبول کیا کیونکہ اس کے دونوں ممالک سے قابلِ قبول تعلقات ہیں — امریکا کا اتحادی بھی، ایران کا ہمسایہ بھی۔ اسلام آباد کی یہ پوزیشن اسے ایک منفرد سفارتی پل بناتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کردار اور گوتریس کا پیغام

گوتریس نے کسی بھی ملک کی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا۔ یہ بیان بظاہر غیر جانبدارانہ ہے، مگر اس میں امریکی فوجی آپشن کو بالواسطہ رد کرنے کا پیغام بھی پوشیدہ ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اگر پاکستان کی ثالثی کامیاب نہ ہوئی تو خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ حقیقی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار، اسرائیل کی بے چینی اور امریکی انتخاباتی سیاست — یہ تینوں عوامل مل کر 2025-26 کو ایک انتہائی نازک سفارتی دور بنا رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ ثالثی صرف علاقائی امن کا سوال نہیں، بلکہ عالمی سطح پر اپنی سفارتی ساکھ بنانے کا ایک تاریخی موقع بھی ہے — جسے ضائع کرنا سستا نہیں پڑے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔