اسرائیل امریکہ کو ایران سے جنگ میں دھکیلنے کیلئے فالس فلیگ کر سکتا ہے: سابق افسر

سابق سی آئی اے افسر نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد اسرائیل امریکہ کو جنگ میں لانے کے لیے فالس فلیگ حملہ کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ایک حالیہ ٹیلی فون کال پر شدید تلخی ہوئی ہے، جس سے دونوں رہنماؤں کے بڑھتے ہوئے اختلافات سامنے آئے ہیں۔
صدر ٹرمپ امریکی نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی حل کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ نیتن یاہو فوجی جارحیت جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں اور سابق سی آئی اے افسر کے مطابق نیتن یاہو سفارت کاری کو ختم کرنے اور امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ میں زبردستی دھکیلنے کے لیے امریکی املاک یا خلیجی اتحادیوں پر خود ساختہ یعنی فالس فلیگ دہشت گردانہ حملہ کروا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی یورینیم امریکہ منتقل کر کے تباہ کرنا چاہتا ہوں، صدر ٹرمپ
اس کی ایک مثال 17 مئی کو دیکھنے میں آئی جب متحدہ عرب امارات کے بارکہ نیوکلیئر پلانٹ کے باہر ایک الیکٹرک جنریٹر پر ڈرون حملہ کیا گیا، یہ ڈرون امریکی کمپنیوں کا تیار کردہ ایرانی شاہد ڈرون کا ہم شکل تھا تاکہ الزام ایران پر لگایا جا سکے، مگر ایرانی فوج نے اصل مجرم اسرائیل کو نامزد کر دیا۔
تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ 8 جون 1967 کو مصر کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیلی فورسز نے عالمی سمندر میں موجود امریکی بحری جہاز یو ایس ایس لبرٹی پر حملہ کر کے 34 امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
حملے کا مقصد اس کا الزام مصر پر لگا کر امریکہ کو جنگ میں شامل کرنا تھا، مگر امریکی فوجیوں کی گواہی نے اس وقت اسرائیل کا یہ منصوبہ ناکام بنا دیا تھا۔ اب دوبارہ اسرائیل اسی پرانے حربے کو استعمال کر کے امریکہ کو پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












