بھارت کا سرکاری سطح پر اعتراف شکست، آپریشن سندور میں فوجی ہلاکتیں تسلیم کر لیں

Humiliating defeat in the Battle of Truth turns into a nightmare for Modi
نئی دہلی: بھارتی حکومت نے بالآخر آپریشن سندور کے دوران ہونے والے فوجی نقصانات کا سرکاری سطح پر اعتراف کر لیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حکومت نے اس آپریشن میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکاروں کے نام باضابطہ طور پر جاری کر دیے ہیں۔
بھارتی حکومت نے ان چھ اہلکاروں کے نام نیشنل وار میموریل کے رول آف آنر میں شامل کر دیے ہیں۔ اس اقدام کو مبصرین پاکستان کے اس مؤقف کی سرکاری توثیق قرار دے رہے ہیں جس میں بھارت کو آپریشن سندور میں بھاری نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت سیاسی مفادات کے پیش نظر طویل عرصے تک اپنے فوجیوں کی قربانی کو منظر عام پر لانے سے گریزاں رہی۔ تاہم فوجیوں کے لواحقین کے مسلسل احتجاج اور دباؤ کے بعد حکومت کو مجبوراً ان ناموں کو ظاہر کرنا پڑا۔
سرکاری فہرست کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائیک، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں۔
پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کارروائی میں 10 انفنٹری بریگیڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صوبیدار میجر پون کمار کا تعلق اسی بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے تھا۔ اسی طرح پاکستان نے ادھم پور میں تعینات S-400 میزائل شکن نظام کی بیٹری تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سارجنٹ سریندر کمار ادھم پور میں ہی ہلاک ہوئے اور انہیں بعد از مرگ وایو میڈل سے نوازا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے نقصانات کو مرحلہ وار تسلیم کر رہا ہے۔ ابتداء میں نئی دہلی نے S-400 بیٹری کی تباہی کی تردید کی تھی تاکہ عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔ تاہم اب سیٹلائٹ شواہد اور بھارت کے اپنے سرکاری ریکارڈز سے یہ تصدیق ہو رہی ہے کہ یہ اہم فارورڈ بیس مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے بھارتی فضائیہ کے رافیل، میراج 2000 اور دیگر کئی طیاروں کو بھی مار گرایا۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اپنے ہی فوجیوں کی قربانیوں کو چھپانے سے بھارتی فوج کا مورال متاثر ہوا ہے۔
سیاسی حلقوں میں بھی مودی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ بھارتی اپوزیشن آپریشن سندور میں ہونے والے نقصانات پر حکومت سے جواب طلب کر رہی ہے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق مودی حکومت اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے آپریشن سندور جاری رکھنے کا دعویٰ دراصل عوامی اور سیاسی سوالات سے بچنے کی کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اور شواہد کے پیش نظر بھارت کو جلد یا بدیر رافیل اور دیگر طیاروں کی تباہی کا اعتراف بھی کرنا پڑے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










