یحییٰ سنوار کی شہادت اور مزاحمت کا مستقبل کیا ہوگا؟

یحییٰ سنوار کی شہادت اور مزاحمت کا مستقبل کیا ہوگا؟
یحییٰ سنوار کی شہادت سے اسرائیلی وزیراعظم جنگ فتح کرنے کا تاثر دے کر عوام میں اپنی مقبولیت بہتربنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن غزہ میں جنگ کی صورت حال یہ بتا رہی ہے کہ سنوار کی شہادت کے باوجود اسرائیل کے خلاف حماس کی سخت مزاحمت جاری ہے۔ کل ہی حماس نے جبالیہ میں بارودی سرنگ دھماکےمیں متعدد اسرائیلی ٹینک تباہ کیے ہیں، جس میں 401 آرمرڈ برگیڈ کا کمانڈر کرنل اے دکسہ ہلاک اور، ایک سینئر افسرسمیت متعدد اسرائیلی فوجی شدید زخمی ہو گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غزہ میں حماس کی سخت مزاحمت جاری ہے۔ سنوار کی شہادت کو حماس کا خاتمہ سمجھنے والا اسرائیلی وزیراعظم احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے، 2004 میں اسرائیل نےحماس کے بانی رہنما شیخ احمد یاسین کو شہید کیا، اس کے چند ہفتے بعد ان کے جانشین عبدالعزیز رنتیسی بھی اسرائیلی بربریت کا شکا ر ہو گئے، اس کے باوجود حماس پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھری اور 2007 میں غزہ پر حکومت قائم کر لی۔
مزاحمتی تنظیموں کا انحصار شخصیات کے بجائے نظریات پر ہوتا ہے، یہ اسٹراٹیجک لیول پر سنٹرل اور آپریشنل و ٹیکٹیکل لیول پر ڈی سنٹرل ہوتی ہیں، اس لیے افراد کے آنے جانے سے زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ جب تک نظریہ باقی ، مزاحمت باقی رہتی ہے۔ اور دنیا کےماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ تنظیم کو تباہ کیا جا سکتا ہے، لیکن نظریے کو تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ نظریہ ہر صورت باقی رہتا ہے، اور شکل بدل کر مزاحمت جاری رکھتا ہے۔ حماس کا مزاحمت، آزادی و حریت پسندی کا نظریہ زندہ و جاوید اور تنظیم باقی ہے، ایسے میں اسرائیل کا غزہ میں مزاحمت کے مکمل خاتمے کے بعد کٹھ پتلی حکومت کا خواب خام خیالی ہے۔ یحییٰ سنوار جس بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، اس نے ایک ایسی متاثر کن مثال قائم کر دی ہے، جو نسل نو کے لیے ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہو گی۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی رجیم کے غاصبانہ قبضہ وہ بنیادی عنصر ہے، جو مزاحمت اور اس کے لیڈروں کو جنم دیتا ہے۔ اسرائیل نے لبنان پر قبضہ کیا تو 1982 میں حزب اللہ وجود میں آئی، غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے سے حماس وجود میں آئی، یمن کے حوثی ہوں یا عراق کی حشد الشعبی سامراجی قوتوں کے غاصبانہ قبضے نے مزاحمت کو وجود بخشا ہے، اس لیے جب تک فلسطین کی سرزمین قابض قوت پر قبضہ باقی رہے گا، فطری ردعمل کےطور پر مزاحمت باقی رہے گی، اور اس کے بطن سے حسن نصراللہ، اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار، فواد شکر، ابراہیم عقیل اور عماد مغنیہ جنم لیتے رہیں گے۔
یحییٰ سنوار کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے صیہونی وزیراعظم نے کہا کہ سنوار کی ہلاکت کے ساتھ ہی غزہ میں جنگ کے بعد کے منصوبے کا آغاز ہو گیا ہے، غزہ پر حماس حکومت نہیں کرے گی، سنوار کی ہلاکت کے باوجود اسرائیلی مشن جاری رہے گا۔ نیتن یاہو نے حماس کے جنگجووں کو ہتھیار ڈالنے اوراسرائیلی قیدیوں کی واپسی کے بدلے جان کی امان دینے کی پیشکش بھی کی
اس وقت اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو جس مشن کے باقی ہونے کی بات کر رہے ہیں ان میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، غزہ سے حماس کا مکمل خاتمہ اور وہاں پر خائن عرب حکمرانوں کی مدد سے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا ہے، جس کا ممکنہ سربراہ فتح کا سابق سیکورٹی چیف، متحدہ عرب امارات میں موجود محمد بن زید کا دفاعی مشیر اور شباک، موساد اور سی آئی اے کا پرانا خدمت گار محمد یوسف دحلان ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی منصوبے کے تحت شمالی غزہ خالی کر کے وہاں ملٹری زون قائم کیا جائے گا۔ غزہ میں کٹھ پتلی حکومت قائم کی جائے گی، جس کو عربوں کی مکمل حمایت ہو گی، اسرائیل سیکورٹی معاملات پر مکمل کنٹرول رکھے گا۔ یہ حکومت تعمیر نو کے نام پر غزہ میں مزاحمت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرے گی۔ جس کے لیے سب سے پہلے وہاں کا نصاب تبدیل ہو گا، اس میں موجود اسرائیل مخالف تمام مواد کا خاتمہ ہوگا۔ ڈی ریڈیکلیزیشن کا بنیادی مقصد مستقبل میں حماس جیسے گروپ کی تشکیل اور ممکنہ مزاحمت کو روکنا ہے۔ اسرائیل غزہ میں یہودی بستیاں قائم کرنے سے متعلق بھی سوچ رہا ہے، جس کے لیے حکمران لیکوڈ اور دائیں بازو کی شدت پسند صیہونی مذہبی تنظیمیں سیمناروں و کانفرنسوں کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کو’غزہ میں یہودی بستیاں قائم کرنے کی تیاری’ کا نام دیا گیا ہے۔
شمالی غزہ میں یہودی بستیاں اور باقی غزہ میں کٹھ پتلی حکومت کی تشکیل بھی ہو سکتی ہے۔ اس تمام سیناریو میں حماس کے پاس صرف دو آپشن ہیں، مزاحمت جاری رکھنا یا ہتھیار ڈال کر مکمل سرنڈر۔۔۔ اسرائیل حماس کے جنگجووں کو یہ کہہ کر دھوکہ دے رہا ہے کہ اگر وہ اسرائیلی مغویوں کو رہا کر کے ہتھیار ڈال دیں تو انھیں جان کی امان دی جا سکتی ہے۔ حماس کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی چارہ نہیں، لیکن خوراک و اسلحہ کی سپلائی کے تمام راستے بند ہونے کی صورت یہ مزاحمت کتنا عرصہ کی جا سکتی ہے، یہ وہ سوال ہے، جس کا وقت جواب دے سکتا ہے، اور اس کا انحصار اس چیز پر ہے کہ حماس نے جنگ سے پہلے زیر زمین کتنا اسلحہ و خشک خوراک زخیرہ کر رکھی تھی۔
نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












