چیونگ گم منہ میں پھٹنے سے نوجوان ہلاک، تہلکہ خیز انکشافات

چیونگ گم منہ میں پھٹنے سے نوجوان ہلاک، تہلکہ خیز حقائق سامنے آگئے
ولادیمیر لیخونوس اپنی موت کے وقت دھماکہ خیز کیمیکلز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
یوکرین کا ایک طالب علم اس وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جب اس کے منہ میں چیونگ گم غیر متوقع طور پر پھٹ گئی۔
ولادیمیر لیخونوس، جو اس وقت صرف 25 سال کے تھے، 2009 میں کیف پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کی ایک شاخ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے جب یہ خوفناک حادثہ پیش آیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی ترجمان ایلویرا بگانووا نے اس واقعے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیا ہے۔
لیکونوس اس وقت اپنی تعلیم کے لئے دھماکہ خیز کیمیکلز کے ساتھ کام کر رہا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے ایک انتہائی غیر مستحکم مادے کو سائٹرک ایسڈ کے ساتھ الجھایا تھا۔ وہ کام کے دوران اپنی چیونگ گم کو ذائقہ دار رکھنے کے لئے باقاعدگی سے سائٹرک ایسڈ کا استعمال کرتا تھا۔
دھماکہ خیز پاؤڈر اس کے ورک اسٹیشن پر موجود تھا اور اس کے ذائقے کی وجہ سے عام طور پر کھانے اور مشروبات میں استعمال ہونے والے کھٹے پاؤڈر سے تقریبا مماثلت رکھتا تھا۔
ایلویرا بگانووا نے وضاحت کی کہ دھماکہ خیز مواد لیکونوس کے منہ میں پھٹ گیا، جس نے اس کے چہرے کا ایک بڑا حصہ پھاڑ کر اسے شدید زخمی کردیا تھا۔
دی انڈپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق دھماکے سے نوجوان کے جبڑے اور چہرے کا زیادہ تر نچلا حصہ پھٹ گیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور جب ایمرجنسی میڈیکل ٹیم ان کی حالت کا جائزہ لینے پہنچی تو جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ ان کی چوٹیں اتنی شدید تھیں کہ وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاؤڈر سائٹرک ایسڈ سے ملتا جلتا ہے لیکن ابھی تک مکمل طور پر شناخت نہیں کیا گیا تھا۔
یہ حادثہ کہاں پیش آیا اس کے بارے میں متضاد بیانات موجود ہیں – کچھ رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں تھا ، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ وہ گھر پر تھا ، جہاں اس کے بھائی نے مبینہ طور پر ایک زوردار دھماکے کی آواز سننے کے بعد اسے پایا۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












