منگل، 28-جولائی،2026
منگل 1448/02/14هـ (28-07-2026م)

راولپنڈی ٹیسٹ؛ انگلینڈ کو شکست! پاکستان ساڑھے 3 سال بعد سیریز جیتنے میں کامیاب

26 اکتوبر, 2024 11:00

پاکستان نے سیریز کے آخری اور فیصلہ کُن ٹیسٹ میں انگلینڈ کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر چار سال بعد ہعد پہلی بار گراؤنڈ میں ٹیسٹ اپنے نام کرلی۔

پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تین میچز پر مشتمل سیریز کے آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو محض صرف 36 رنز کا ہدف دیا جسے قومی ٹیم نے ایک وکٹ کے نقصان پر با آسانی حاصل کرلیا۔

ٹیسٹ کے تیسرے روز انگلینڈ نے تین وکٹوں کے نقصان پر 24 رنز سے نامکمل دوسری اننگ کا آغاز کیالیکن اس بار بھی کوئی  بھی انگلش بلے باز بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہا، پاکستان کے اسپن بالرز نے ٹیسٹ میں اپنی دھاک بٹھا دی اور نعمان علی نے چھ جب کہ ساجد خان چار نے وکٹیں حاصل کرکے انگلش ٹیم کو 112 رنز پر پولیئن بھیج دیا۔

36 کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے قومی بلے باز سائم ایوب ایک بار بیٹنگ میں ناکام ہوئے لیکن کپتےان شان مسعود اور عبداللہ شفیق کرس پر موجود رہے جنہوں نے چند اوورز میں ہی کھیل ختم کردیا۔

زبردست بلے بازی کا مظاہرہ کرنے اور 134 رنز کی شاندار اننگ کھیلنے پر نائب کپتان سعود شکیل کو میچ کا بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا جب کہ تین میچز کی سیریز میں 19 وکٹیں حاصل کرنے والے جارہانہ اسپنر ساجد خان پلیئر آف دی سیریز قرار پائے ہیں۔

قبل ازیں تیسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور میچ کے پہلے روز، پہلی اننگ میں مہمان ٹیم 267 رنز بنا کر پویلیئن لوٹ گئی، اس موقع پر انگلش وکٹ کیپر جیمی اسمتھ 89 اور بین ڈکٹ 52 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

پاکستان کی جانب سے بولنگ میں ایک بار پھر اسپنرز نے اپنا چلا کر انگلینڈ بیٹرز کو پچ پر ٹکنے نہیں دیا، ساجد خان نے 6، نعمان علی نے 3 جب کہ زاہد محمود نے ایک وکٹ حاصل کی۔

انگلینڈ کے 267 رنز کی برتری کے مقابلے میں قومی شرٹس اننگ کی ابتدا میں لڑکھڑاتی نظر آئی تاہم پنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز نائب کپتان سعود شکیل نے شاندار سنچری کی بدولت قومی ٹیم کو سراہا دیا اور وہ 134 رنز کی زبردست باری کھیل کر آوٹ ہوئے۔

اس کے علاوہ بیٹرز کے بجائے ان دو اسپنرز نے ہی بیٹنگ میں قومی ٹیم کو تھام لیا، ساجد خان ناقابل شکست 48 جب کہ نعمان علی 45 بنا کر نمایاں رہے اور اس طرح پاکستان نے انگلینڈ پر 77 رنز کی برتری حاصل کرلی۔

بولنگ میں مہمان ٹیم کی جانب سے ریحان احمد نے 4، شعیب بشیر نے 3 جب کہ گس اٹکسن نے اور جیک لیچ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

تسیرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کیلئے قومی اسکواڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، ملتان میں انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ جیتنے والی ٹیم ہی جلوا گر تھی، راولپنڈی ٹیسٹ میں بھی قومی ٹیم 3 اسپیشلسٹ سپنرز نعمان علی، زاہد محمود اور ساجد خان کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔

قومی اسکواڈ

پاکستان کی پلیئنگ الیون میں کپتان شان مسعود، نائب کپتان سعود شکیل، صائم ایوب، عبداللہ شفیق، وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان، کامران غلام، سلمان علی آغا، عامر جمال، نعمان علی، زاہد محمود اور ساجد خان شامل ہیں۔

انگلش اسکواڈ

انگلینڈ نے بھی تیسرے ٹیسٹ میچ کیلئے ریحان احمد، جیک لیچ اور شعیب بشیر کو بطور سپیشلسٹ سپنرز ٹیم میں شامل کیا ہے، ان کے علاوہ کپتان بین سٹوکس، زیک کرالی، بین ڈکٹ، اولی پاپ، جو روٹ، ہیری بروک، جمی سمتھ، فاسٹ باؤلر گِس ایٹکنسن پلیئنگ الیون کا حصہ ہیں۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔