پاک چین دوستی: سڑکوں سے معدنیات اور صنعت تک نئے معاشی سفر کا آغاز

چین کا 77واں قومی دن ایسے وقت میں منایا گیا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط یہ تعلق محض سفارتی دوستی، سیاسی حمایت اور باہمی اعتماد تک محدود نہیں رہا بلکہ دفاع، توانائی، تجارت، بنیادی ڈھانچے، زراعت، معدنیات، صنعت اور جدید ٹیکنالوجی تک پھیل چکا ہے۔ آج پاک چین دوستی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں اس کی اصل اہمیت کا اندازہ سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اس کے عملی کردار سے لگایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے قومی دن کے موقع پر چینی قیادت اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے پاک چین ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کی حالیہ ملاقاتوں اور بیانات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت صنعت، زراعت، معدنیات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ ترجیحات اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، پاک چین معاشی تعاون کا سب سے نمایاں منصوبہ ہے۔ اس کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری ہوئی، 43 منصوبے مکمل کیے گئے اور توانائی کے شعبے میں تقریباً 8 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی اضافی صلاحیت شامل ہوئی۔ ملتان سکھر موٹروے، حویلیاں تھاکوٹ شاہراہ، حقلہ ڈی آئی خان موٹروے، گوادر اور توانائی کے متعدد منصوبوں نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور علاقائی رابطوں کو نئی شکل دی۔ اس مرحلے میں تقریباً دو لاکھ براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بھی سرکاری طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔
تاہم سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی طور پر سڑکوں، بجلی اور رابطوں کی تعمیر کا مرحلہ تھا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں پاکستان ان منصوبوں سے آگے بڑھ کر پیداوار، صنعت، برآمدات اور روزگار میں کتنا اضافہ کرسکتا ہے۔
پاکستان تانبے، سونے، زنک، سیسے، کرومائٹ اور دیگر اہم معدنیات کے وسیع ذخائر اور امکانات رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں معدنی شعبہ اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق قومی معیشت میں کردار ادا نہیں کرسکا۔ خام معدنیات نکال کر برآمد کرنے کے بجائے اگر پاکستان چین کی کان کنی، معدنیات کی تیاری، صفائی اور صنعتی استعمال کی وسیع صلاحیت سے فائدہ اٹھائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کے لیے ایک نیا ستون بن سکتا ہے۔
جنوری 2026 میں اسلام آباد میں ہونے والے پاک چین معدنی تعاون فورم میں 70 سے زائد چینی اور 100 سے زیادہ پاکستانی کمپنیوں کی شرکت اس شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ثبوت ہے۔ سیندک تانبہ و سونا منصوبہ، دُدّر سیسہ و زنک منصوبہ اور تھر کے کوئلے میں چینی تعاون پہلے ہی موجود ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعاون صرف معدنیات نکالنے تک محدود نہ رہے بلکہ پاکستان میں ان کی صفائی، تیاری اور صنعتی مصنوعات بنانے کے مراحل بھی قائم کیے جائیں۔
اس سلسلے میں بلوچستان کا ریکوڈک منصوبہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع بن سکتا ہے۔ تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر پر مشتمل ریکوڈک پاکستان کو عالمی معدنی نقشے پر اہم مقام دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اس منصوبے کے ساتھ ایک بنیادی چیلنج سکیورٹی کا ہے۔ بلوچستان کی موجودہ صورتحال نے منصوبے کی رفتار، لاگت اور تعمیراتی حکمت عملی پر بھی اثر ڈالا ہے۔
اسی پس منظر میں ریکوڈک کے بعض حصوں میں چینی کمپنیوں اور تعمیراتی اداروں کی ممکنہ شمولیت کی بات سامنے آئی ہے۔ جون 2026 کی رپورٹنگ کے مطابق پاکستانی حکام اور بیرک کے درمیان منصوبے کی لاگت، سکیورٹی اور تعمیراتی معاملات پر بات چیت کے دوران چینی کمپنیوں کی ممکنہ شمولیت پر بھی غور کیا گیا۔ تاہم ابھی اسے حتمی فیصلہ یا معاہدہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
اگر یہ تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے کئی پہلو اہم ہوں گے۔ چینی کمپنیوں کو پاکستان کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں توانائی، سڑکوں، کان کنی اور دیگر بڑے منصوبوں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ ریکوڈک میں چینی تعمیراتی اور انجینئرنگ صلاحیت کو عالمی معیار کی کان کنی کی مہارت کے ساتھ جوڑنے سے ایک نیا ماڈل تشکیل پاسکتا ہے۔ تاہم ریکوڈک کی کامیابی کے لیے صرف کمپنیوں کا انتخاب کافی نہیں ہوگا۔ مقامی آبادی کی شمولیت، روزگار، صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور پائیدار امن بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔
پاک چین معاشی تعاون کا ایک اور اہم مگر نسبتاً کم زیر بحث پہلو تیل و گیس کا شعبہ ہے۔ چینی کمپنیاں کئی برس سے پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش، کنوؤں کی کھدائی اور پیداوار سے متعلق خدمات فراہم کررہی ہیں۔ چائنا نیشنل پٹرولیم کارپوریشن سے وابستہ چوان چِنگ ڈرلنگ انجینئرنگ کمپنی بھی پاکستان میں سرگرم ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے پاکستان کے شیل اور کم نفوذ والی گیس کے ذخائر کی ترقی کے لیے اس چینی کمپنی کے ساتھ تعاون کیا ہے جبکہ چینی کمپنی جیرے بھی پاکستان میں اوجی ڈی سی ایل سمیت تیل وگیس کی تلاش اور پیداواری کمپنیوں کو گذشتہ کئی سالوں سے بہترین خدمات فراہم کررہی ہے۔
چین کی معروف توانائی کمپنی جیریہ گروپ (Jereh Group) نے بھی پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی نے آئل فیلڈ آلات، گیس کمپریسرز، گیس پروسیسنگ سلوشنز اور انجینئرنگ خدمات فراہم کی ہیں اور او جی ڈی سی ایل اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) سمیت بڑی پاکستانی توانائی کمپنیوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے نَشپا کمپریشن منصوبے کے لیے تقریباً 30 ملین امریکی ڈالر کے ای پی سی معاہدے اور پی پی ایل کی گیس پروسیسنگ سہولیات کی اپ گریڈیشن میں جیریہ کی شمولیت پاکستان میں گیس کی پیداوار، پروسیسنگ صلاحیت اور فیلڈ ریکوری کو بہتر بنانے میں چینی تعاون کی عملی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ تعاون اس لیے اہم ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ اگر جدید چینی ٹیکنالوجی اور تجربے کے ذریعے مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھائی جاسکے تو نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ درآمدی بل میں بھی کمی آسکتی ہے۔
2026 میں چینی کمپنی شاندونگ شِن شو گروپ کی پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی اس بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔ کمپنی نے تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے، کنوؤں کی کارکردگی بہتر بنانے، کھدائی اور ریفائنری کی جدید کاری میں تعاون کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک چین توانائی تعاون اب صرف بجلی گھروں تک محدود نہیں رہا۔
زراعت بھی نئے معاشی تعاون کا اہم میدان ہے۔ چین نے جدید بیج، زرعی مشینری، آبپاشی، ذخیرہ کاری اور زرعی تحقیق کے ذریعے اپنی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ پاکستان اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، لیکن مقصد صرف چینی مشینری درآمد کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی مشین سازی، تحقیق اور پاکستانی کسانوں کی تربیت بھی ساتھ آگے بڑھے۔ تقریباً ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین کی چین میں تربیت اسی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مواصلات، روبوٹکس اور خلائی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس نوجوان اور بڑی افرادی قوت ہے جبکہ چین کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی تجربہ۔ اگر دونوں کو مؤثر انداز میں جوڑا جائے تو پاکستان صرف چینی مصنوعات کی منڈی بننے کے بجائے ٹیکنالوجی اور خدمات کی علاقائی منڈی بھی بن سکتا ہے۔
پاک چین تعلقات کا دفاعی پہلو بھی اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر کی مشترکہ تیاری دونوں ممالک کے دفاعی صنعتی تعاون کی کامیاب مثال ہے، جبکہ جے-10 سی طیاروں نے بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران چینی ساختہ جے-10 طیاروں کے کردار نے عالمی توجہ حاصل کی۔ اس تجربے نے ظاہر کیا کہ پاک چین دفاعی تعاون اب محض ہتھیاروں کی خریداری نہیں بلکہ مشترکہ صلاحیت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا ذریعہ بن چکا ہے۔
تاہم پاک چین اقتصادی تعلقات کے مستقبل میں ایک اہم چیلنج تجارتی عدم توازن ہے۔ پاکستان چین سے مشینری، صنعتی خام مال، برقی آلات اور دیگر مصنوعات بڑی مقدار میں درآمد کرتا ہے، جبکہ چین کو پاکستانی برآمدات اس تناسب سے کم ہیں۔ اس لیے سی پیک کے دوسرے مرحلے کی اصل کامیابی کا پیمانہ صرف چین سے آنے والی سرمایہ کاری نہیں بلکہ پاکستان سے چین اور عالمی منڈیوں کو جانے والی برآمدات ہونی چاہئیں۔
معدنیات، زرعی مصنوعات، گوشت، سمندری خوراک، کپڑا، تیار شدہ غذائی مصنوعات اور اطلاعاتی خدمات میں پاکستان کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی صنعت معیار، مسابقت، تحقیق، پیکیجنگ اور عالمی منڈی کی ضروریات پر توجہ دے۔
پاک چین دوستی نے کئی مراحل دیکھے ہیں۔ پہلے مرحلے میں سیاسی اعتماد اور دفاعی تعاون مضبوط ہوا۔ دوسرے مرحلے میں سی پیک کے ذریعے سڑکوں، بجلی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہوئی، جبکہ اب تیسرا مرحلہ صنعت، معدنیات، زراعت، تیل و گیس، ٹیکنالوجی اور برآمدات کا بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان کو اس موقع پر ایک بنیادی اصول پیش نظر رکھنا ہوگا: چینی سرمایہ کاری کا مقصد صرف منصوبے تعمیر کرنا نہیں بلکہ پاکستانی معیشت کی پیداواری صلاحیت بڑھانا ہونا چاہیے۔ ہر بڑے منصوبے کے ساتھ مقامی روزگار، پاکستانی کمپنیوں کی شمولیت، ہنرمندی کی تربیت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدی اہداف بھی وابستہ ہونے چاہئیں۔
چین کے 77ویں قومی دن اور پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر دونوں ممالک ایک نئے معاشی دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ پہلے مرحلے میں سڑکیں، بجلی گھر اور بنیادی ڈھانچہ ترجیح تھے جبکہ آنے والے مرحلے میں کانیں، کارخانے، تیل و گیس کے میدان، زرعی مراکز، ٹیکنالوجی کے ادارے اور برآمدی صنعتیں پاک چین شراکت داری کی نئی شناخت بن سکتی ہیں۔
یہی سی پیک کے دوسرے مرحلے کا اصل امتحان بھی ہے اور پاکستان کے لیے سب سے بڑا موقع بھی۔ اگر پاکستان اپنے قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت اور جغرافیائی محل وقوع کو چین کی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور صنعتی تجربے سے مؤثر طور پر جوڑنے میں کامیاب ہوگیا تو پاک چین دوستی صرف ایک مضبوط سفارتی رشتہ نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کی معاشی تبدیلی کی ایک فیصلہ کن قوت بن سکتی ہے
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









