اسرائیل کا اقوام متحدہ کی ایجنسی پر پابندی لگانے کا فیصلہ

اسرائیلی پارلیمنٹ نے 90 روز میں انروا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا
اسرائیلی پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (انروا) پر 90 روز کیلئے پابندی لگادی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ نے ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سمیت اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقوں میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کیلئے ایک متنازع بل کی منظوری دے دی ہے۔
یو این آر ڈبلیو اے غزہ میں انسانی امداد فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران اور اسرائیل پر امداد تک رسائی کی اجازت دینے کے دباؤ کے درمیان صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:اسرائیل نے مزید تین فلسطینی صحافیوں کو شہید کردیا
یہ پابندی جو فوری طور پر نافذ العمل نہیں ہوئی ہے اس کے نتیجے میں مشرقی یروشلم اور غزہ سمیت مغربی کنارے میں انروا کے دفاتر بند ہوجائیں گے۔ یہ بندش 1949 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے لازمی قرار دیے گئے مشن کو مؤثر طریقے سے روک دے گی۔
انروا کی کارروائیوں کو بے پناہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ حالیہ تنازعات کے دوران اس کے سیکڑوں عملے کی ہلاکت ہوئی ہے، جس سے یہ اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں کیلئے مہلک ترین ادوار میں سے ایک بن گیا ہے۔
اس بل کے بعد گرما گرم بحث چھڑ گئی جو 92-10 کے مقابلے میں منظور ہوا۔ اس بل کو عرب پارلیمانی ارکان کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ فلپ لازارینی نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے اور اس سے فلسطینیوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب انروا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے دوسرے بل پر بھی ووٹنگ ہونی تھی۔
Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












