پیر، 27-جولائی،2026
پیر 1448/02/13هـ (27-07-2026م)

روس، ایران، حزب اللہ اور شامی فوج نے جنگجوؤں کیخلاف مزاحمت کیوں نہ کی؟

12 دسمبر, 2024 15:13

8 حیات تحریر الشام، ترک حمایت یافتہ سیرئین نیشنل اور امریکی حمایت یافتہ سیرئین ڈیموکریٹک فرنٹ نے دو درجن سے زائد چھوٹے بڑے جنگجو گروپوں کے ساتھ مشترکہ کمان میں شام کے دارالحکومت دمشق پر قبضہ کر لیا۔

حیران کن امر یہ ہے اسد خاندان کے تریپن سالہ اقتدار کے خاتمے کے لیے جنگجووں کو ایک گولی بھی نہ چلانا پڑی، اور انھوں نے بغیر کسی مزاحمت کے دمشق پر قبضہ کر لیا۔

بشار الاسد کی وفادار فوج نے جنگجووں کے خلاف مزاحمت کیوں نہ کی؟

حلب اورحما میں جس طرح شامی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوئی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بشار حکومت کے خلاف آپریشن سے پہلے ہی
شامی فوج میں اہم جرنیلوں کو خرید لیا گیا، جس کی وجہ سے مسلح جنگجووں کے خلاف قابل ذکر مزاحمت نہیں ہوئی۔ شامی فوج مالی مشکلات کا شکار تھی، اس کا مورال ڈاون تھا اور وہ ‘لوزنگ کاز’ کے لیے اپنی جانیں دینے کے لیے تیار نہیں تھی، کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بشار حکومت کا تختہ الٹنا یقینی ہے۔

روس، ایران اور حزب اللہ نے جنگجووں کے خلاف کاروائی کیوں نہ کی؟

روس نے حلب میں جنگجووں پر بمباری کی، ایران نے شامی فوج کی مدد کرنے کی کوشش کی، حلب اور حما میں شامی فوج کی پسپائی کے بعد بیک ڈور مذاکرات میں امریکہ نے روس اور ایران کو ترکی کے زریعے بتا دیا کہ ان کی گیم شام میں اب ختم ہے۔ لہذا بہتر ہے کہ خون خرابے کے بجائےاقتدار بشار مخالف جنگجووں کو منتقل کر دیا جائے۔ کیونکہ شام کی فوج کے اہم کمانڈرز جنگجووں سے ڈیل کر چکے تھے، جس کی وجہ سے بشار کی وفادار فوج مزاحمت نہیں کر رہی تھی۔ اس لیے روس اور ایران نے ترکیہ کے زریعے بھیجی گئی، پیشکش کو قبول کرتے ہوئے باغیوں کے خلاف کاروائی نہ کرنے اور پرامن انتقال اقتدار پر اتفاق کیا۔
روس پرامن انتقال اقتدار پر کیوں رضامند ہوا؟

مزید پڑھیں:اسرائیل نے شامی فوج کے سے 80 فیصد فوجی صلاحیتوں کو تباہ کردیا
روس کی فوج اور جنگی سازوسامان یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہا ہے،اس لیے روس شام کی جنگ میں ایک حد سے زیادہ ملوث نہیں ہو سکتا تھا۔ شامی فوج کی پسپائی کے بعد روس نے بشارالاسد کو اقتدار سےعلیحدہ ہونے کی ہدایت کی، بشار بھی یقینی شکست اور فوج میں بغاوت کی وجہ سے باغیوں کو کچلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

ایران نے جنگجوؤں کے خلاف کاروائی کیوں نہ کی؟

ایران نے روس اور ترکیہ کی مدد سے شام کو مستحکم رکھا ہوا تھا۔ ترکیہ نے امریکہ سے ہاتھ ملا لیا، جب کہ روس کی یوکرین جنگ کی وجہ سے شام میں دلچسپی ختم ہو چکی تھی۔ بشارالاسد کو مورال بھی ڈاون تھا اور وہ بھی اقتدار میں رہنے کےلیے تیار نہیں تھا، بشار ایران کے بجائے روس کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا، جس نے اسے اقتدار سے علیحدہ ہونے کی ہدایت کردی۔ اس وجہ سے ایران نے جب شام میں فوجیں اتارنے کے لیے اسے رسمی درخواست کا کہا تو بشار نے منع کر دیا۔ جس کے بعد ایران کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ شام میں باغیوں کے خلاف جنگ جاری رکھ سکے۔ روس، ترکیہ، امریکہ، اور قطر نے بھی شام میں ایران کی فوجی مداخلت کی مخالفت کی۔ اسرائیل نے بشار حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے یا فوج بھیجنے کی صورت، ایرانی فوج اور اسلحہ پر حملہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔ جب کہ عراق سے شام آنے والے ایران کے حمایت یافتہ جنگجووں پر امریکی طیاروں نے بمباری کی۔بشار حکومت کے سقوط سے چند ہفتے پہلے اسرائیلی وفد نے روس کا دورہ کیا اور صدر پیوٹن پر واضع کیا کہ اسرائیل شام میں ایران کی موجودگی مزید برداشت نہیں کرے گا، ممکنہ طور پر اس وجہ سے بھی روس نے شام میں ایران کا مزید ساتھ دینے سے گریز کیا۔ امریکہ، اسرائیل، ترکیہ اور قطربھی شام سے ایران کا انخلاء چاہتے تھے، جب کہ روس نے اپنی شام سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرلی تھی، بشار روس کی لائن کو فالو کر کے پرامن انتقال اقتدار کے لیے تیار ہو چکا تھا، اس لیے اُس نے ایران کو شام میں فوج بھیجنے کی درخواست نہیں کی۔ ایسے میں ایران کے پاس بشار مخالف جنگجووں کے خلاف کاروائی کا کوئی قانونی و اخلاقی جواز نہیں تھا، اس لیے ایران نے روس اور ترکیہ کے ساتھ مل کر پرامن انتقال اقتدار پراتفاق کیا اور اپنی فوج اور جنگجو گروپوں کو شام میں اتارنے سے گریز کیا۔

جنگجو گروپوں نے دمشق بغیر گولی چلائے کیسے فتح کیا؟

شام میں متحرک اسٹیک ہولڈرز میں روس اور ایران بشار کی حمایت کر رہے تھے، جب کہ جنگجو گروپوں کوترکیہ، امریکہ، اسرائیل، قطر، متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل تھی۔ ترکیہ بشار مخالف تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی کر رہا تھا، جس نے روس اور ایران کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دوحہ میں آستانہ امن عمل کے تحت مذاکرات کیے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے شام میں پرامن انتقال اقتدار پر اتفاق کیا۔ یہی وجہ ہے کہ برق رفتار انداز میں پیش قدمی کی اور ایک ہی دن میں حما،حمص، درعا سمیت متعدد شہر فتح کیے اور صبح تک گولی چلائے بغیر دمشق پر بھی قبضہ کر لیا۔ ڈیل کے تحت ایران نے اپنا سفارتی عملہ اور فوجی مشیر واپس بلا لیے، روس نے اپنے ائیر ڈیفنس سسٹم کی بیٹریوں کو طرطوس میں واقع بحری اڈے منتقل کیا، جنگجووں نے ڈیل کے تحت ہیم میم میں واقع روس کے فضائی اڈے اور طرطوس میں واقع بحری اڈے کو نشانہ نہیں بنایا۔ ڈیل کے تحت ہی بشارالاسد پر حملہ نہیں ہوا اور روس نے اسے بحفاظت ماسکو منتقل کر کے پناہ دے دی، جب کہ معاہدے کے تحت ایران نے جنگجو گروپوں سے ضمانت لی کہ وہ شام میں مقامات مقدسہ کی حفاظت کی یقین دہانی کروائی۔

نوٹ: جی ٹی وی نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں۔

Catch all the Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔