کون کیا لے گیا!!! توشہ خانہ کا ریکارڈ غائب

اسلام آباد: کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ توشہ خانہ کے 1997 سے قبل کے کسی بھی ریکارڈ کا سراغ نہیں مل سکا۔
پی اے سی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی سربراہی میں ہوا، جہاں توشہ خانہ سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے وضاحت کی کہ 1997 سے پہلے کے ریکارڈز مکمل طور پر غائب ہیں اور تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں واضح قوانین موجود نہ ہونے کے باعث بعض اوقات حکام نے اشیاء براہ راست حاصل کر لیں۔ ان کے مطابق اب وزیرِاعظم کی سطح پر زیر غور ترامیم کے بعد نئے قانونی ضابطے بنائے جائیں گے تاکہ مستقبل میں کسی ابہام کی گنجائش نہ رہے۔
پی اے سی چیئرمین سید نوید قمر نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کو فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لینا چاہیے اور اصلاحات کو جلد از جلد آگے بڑھانا ہوگا۔
اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ توشہ خانہ کے تحائف ہمیشہ ایک ہی گروہ کو کیوں فروخت کیے گئے اور عوامی بولی کیوں نہیں لگائی گئی۔
اس پر کابینہ ڈویژن حکام نے وضاحت کی کہ اخبارات میں اشتہارات ضرور شائع کیے گئے تھے، مگر عوامی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہی۔
ایک افسر نے بتایا کہ چند نیلامیاں ہوئیں لیکن افسران بھی شامل ہونے سے کتراتے رہے کیونکہ انہیں مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں کا اندیشہ تھا۔
سید نوید قمر نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ صرف وزارت خزانہ کو قیمت مقرر کرنے کا اختیار کیوں حاصل ہے اور اس پر زور دیا کہ ایک شفاف اور کھلی نیلامی کا نظام رائج ہونا چاہیے
کمیٹی کے رکن معین عامر پیرزادہ نے تجویز دی کہ قیمتی تحائف کی قیمتیں براہِ راست مینوفیکچرنگ کمپنیوں سے معلوم کی جائیں تاکہ شفاف انداز میں ان کی قیمت مقرر ہو سکے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












