منگل، 12-مئی،2026
منگل 1447/11/25هـ (12-05-2026م)

چین کے ساتھ مذاکرات میں ٹرمپ کی پوزیشن کمزور، مشرق وسطیٰ کی جنگ رکاوٹ بن گئی

12 مئی, 2026 09:30

چین نے گزشتہ برسوں میں دنیا بھر کی بندرگاہوں اور شپنگ کے ڈھانچے میں اتنی سرمایہ کاری کر لی ہے کہ اب ٹرمپ کے لیے اسے چیلنج کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جب چین کے دورے پر پہنچیں گے تو ان کے سامنے ایک ایسا حریف ہوگا، جو عالمی تجارت کی رگوں پر ہاتھ رکھے بیٹھا ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سپلائی چین کے اصل کنٹرولر اب چینی ہیں۔

چین کی کمپنی کوسکو یونان کی پیراس بندرگاہ کے دو بڑے ٹرمینلز چلا رہی ہے، جو یورپ کے مصروف ترین مراکز میں سے ایک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : واشنگٹن کا عالمی سپلائی لائنز پر کنٹرول ختم، چین نے دنیا کو حیران کر دیا

اس کے علاوہ چینی کمپنیاں دنیا بھر کی تقریباً 129 بندرگاہوں میں حصے دار ہیں، جو ملائکہ، ہرمز اور سوئز جیسے اہم تجارتی راستوں پر واقع ہیں۔

دنیا میں استعمال ہونے والے 95 فیصد شپنگ کنٹینرز چین میں بنتے ہیں اور بندرگاہوں پر استعمال ہونے والی 70 سے 80 فیصد کرینیں بھی چینی کمپنی زیڈ پی ایم سی کی تیار کردہ ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی ہی مشکلات میں اس وقت اضافہ کیا، جب انہوں نے پاناما کینال پر چینی اثر و رسوخ کے خلاف سخت بیانات دیے، جس کے نتیجے میں قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور چین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاناما کے جھنڈے والے جہازوں کو روکنا شروع کر دیا۔

اس قانونی جنگ نے پاناما کینال کے انتظام کو لٹکا دیا ہے اور امریکہ کے لیے ایک نیا دردِ سر پیدا کر دیا ہے۔ اب ٹرمپ ایک ایسی پوزیشن میں ہیں، جہاں وہ چین کے سامنے بلند بانگ دعوے تو کر سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پاس بیجنگ کو دبانے کے لیے کوئی ٹھوس راستہ باقی نہیں بچا ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔