خلیجی ممالک میں طاقت کی منتقلی، ایران کا نیا سکیورٹی فریم ورک اور نیتن یاہو کے گریٹر اسرائیل کی ناکامی

خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی اندرونی رقابت اور ایران کے نئے سکیورٹی فریم ورک نے صدر ٹرمپ کے منصوبوں اور نیتن یاہو کے عظیم اسرائیل کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔
خلیجی بادشاہتوں کے درمیان اب کوئی اندرونی اتحاد موجود نہیں ہے اور خطے میں جاری اس نئی کشمکش نے پورے مشرق وسطیٰ کا سیاسی نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دشمنی اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ سن 2015 میں ان دونوں نے مل کر یمن میں انصار اللہ کے خلاف اتحاد بنایا تھا، لیکن 2019 میں امارات اس اتحاد سے پیچھے ہٹ گیا۔
اب سعودی عرب یمن کی صدارتی کونسل کی حمایت کرتا ہے جبکہ امارات اس کی مخالف جنوبی عبوری کونسل کی پشت پناہی کر رہا ہے، جس کی وجہ سے بحیرہ احمر کے ساحل پر دونوں کے سکیورٹی مفادات آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔
یہی صورتحال سوڈان کی خانہ جنگی میں بھی ہے، جہاں سعودی عرب سوڈانی افواج کے ساتھ ہے جبکہ امارات سیمی ملٹری فورس کی مدد کر رہا ہے۔
امارات اب صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کے ذریعے افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے جبکہ سعودی عرب نے امارات کو روکنے کے لیے ترکیہ کے ساتھ یمن، سوڈان اور صومالیہ کے معاملات پر قریبی تعاون شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی امریکی بحری ناکہ بندی کو ناکام بنانے کی نئی انرجی حکمت عملی
اسرائیل کے معاملے پر بھی دونوں میں شدید اختلافات ہیں، امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے، جس کی وجہ سے سعودی عرب امارات کو خطے میں اسرائیل کا خفیہ مہرہ سمجھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور اماراتی صدر محمد بن زاید کے مابین ذاتی تعلقات بالکل ختم ہو چکے ہیں اور یہاں تک کہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین جمال خاشقجی کے قتل کو بھی اماراتی صدر کی سازش قرار دیتا تھا۔
دوسری طرف قطر کا بحران جو 2017 سے 2021 تک رہا، جس میں سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر نے قطر کا مکمل سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کیا تھا، اس کی وجہ قطر کی جانب سے اخوان المسلمون کی حمایت تھی، جسے خلیجی بادشاہتیں اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں، جبکہ ترکیہ قطر کے ساتھ کھڑا رہا۔
پچھلی چند دہائیوں کی جنگوں اور عرب بہار نے اسرائیل اور خلیجی ملکوں کو عارضی فائدہ پہنچایا تھا لیکن ایران کی حالیہ جنگ نے پورا کھیل پلٹ دیا ہے۔
اس جنگ میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے تباہ ہو چکے ہیں، اسرائیل شدید معاشی اور سکیورٹی بحران کا شکار ہے اور خلیجی ممالک کی معیشتیں بھی خطرے میں ہیں۔
ایسی صورتحال میں ایران نے مغربی طاقتوں کے بغیر ایک نیا خلیجی سکیورٹی فریم ورک تجویز کیا ہے، جس کی سعودی عرب اور عمان نے بھی تائید کی ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اب خطے کا نیا توازن ایران، سعودی عرب اور عمان کے ہاتھ میں ہوگا، جبکہ بحرین، کویت، امارات اور اسرائیل کا کردار انتہائی کم ہو جائے گا، اور ترکیہ اور قطر بھی خلیج کے اندرونی معاملات پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو پائیں گے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












