اسرائیل کی فالس فلیگ کی تاریخ اور ترکیہ، سعودی عرب، امارات پر حالیہ حملوں میں یکسانیت

مشرق وسطیٰ میں حالیہ پراسرار ڈرون و میزائل حملوں کے بعد جیو پولیٹکس جریدے نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے ایران کے بجائے اسرائیل کی پرانی ‘فالس فلیگ’ تکنیک شامل ہو سکتی ہے۔
انڈین اوقیانوس میں واقع برطانوی فوجی اڈے پر اچانک میزائل داغے جانے اور متحدہ عرب امارات کے باراکاہ ایٹمی پلانٹ کے قریب ڈرون گرنے کے واقعات کے بعد جہاں امریکہ اور اس کے اتحاد نے فوری طور پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا، وہیں اندرونی شواہد ایک الگ ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔
جیو پولیٹکس جریدے کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق ان تمام کارروائیاں اور سیکیورٹی ڈراموں کا انداز بالکل انہی فالس فلیگ آپریشنز سے ملتا جلتا ہے، جن میں اسرائیل کی فوجی انٹیلی جنس کی لمبی تاریخ رہی ہے۔
تاریخی طور پر 1954 کی گرمیوں میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ‘امان’ نے ‘آپریشن سوسانہ’ کے تحت مصری یہودیوں کے ذریعے قاہرہ اور اسکندریہ میں برطانوی و امریکی مراکز پر بم دھماکے کروائے تھے، تاکہ اس کا الزام اخوان المسلمون پر لگا کر برطانیہ کو نہر سویز سے فوجیں نکالنے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فوج تجارتی جہازوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے، ایران
اس واقعے کو ‘لافون افیئر’ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں بم وقت سے پہلے پھٹنے کے باعث پوری نیٹ ورک کا پول کھل گیا تھا اور اسرائیلی وزیر دفاع پنھاس لافون کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
حالیہ واقعات پر نظر ڈالی جائے تو مارچ 2026 میں ڈیاگو گارشیا کے برطانوی و امریکی بیس پر 2 میزائل داغے گئے، ایران نے اس میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی کیونکہ 4 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ایرانی میزائل کی حد سے دوگنا ہے۔
اسی طرح مارچ 2026 میں ترکیہ کی جانب آنے والے میزائلوں پر بھی تہران نے کہا کہ یہ انقرہ اور تہران کے تعلقات خراب کرنے کے لیے اسرائیل کی سازش تھی۔
اس کے علاوہ سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری پر حملہ بھی ایرانی سرحدوں پر جاری بمباری سے عالمی توجہ ہٹانے اور عرب ممالک کو ایران کے خلاف کرنے کا طریقہ تھا۔
17 مئی 2026 کو امارات کے باراکاہ ایٹمی پلانٹ پر ہونے والا ڈرون حملہ بھی ایک ہزار کلومیٹر پر محیط سعودی فضائی حد کو بغیر راڈار پر آئے عبور نہیں کر سکتا تھا، جس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ یہ حملہ سمندر میں موجود اسرائیلی بحری جہازوں سے کیا گیا تھا۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












