جمعرات، 13-اگست،2026
جمعرات 1448/02/30هـ (13-08-2026م)

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا اثر ختم، دنیا نے امریکی دباؤ کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا

05 اگست, 2026 09:14

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے، تجارتی پابندیوں اور دھمکیوں کی حکمتِ عملی دنیا میں اپنا اثر کھو رہی ہے۔ عالمی برادری اب امریکی پریشر سے گھبرانے کے بجائے اس کا سامنا کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔

امریکی اخبار دی واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور ٹیرف میں اضافے کا عالمی اثر اب انتہائی محدود ہو چکا ہے۔

اپریل 2025 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے روز گارڈن سے بڑی تجارتی پابندیوں کا اعلان کیا تھا، تو دنیا بھر کی مارکیٹوں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا اور 75 سے زائد ممالک فوری مذاکرات پر مجبور ہو گئے تھے۔ تاہم 16 ماہ کے بعد عالمی حالات بالکل تبدیل ہو چکے ہیں۔

کینیڈا کو ساتھ ملانے، گرین لینڈ پر قبضے، نیٹو کو چھوڑنے اور ایران پر دباؤ بڑھانے جیسی ٹرمپ کی مسلسل دھمکیوں پر اب دنیا کا ردِعمل انتہائی مدہم ہے۔

عالمی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو امریکی عدالتوں، کانگریس اور غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور ان کے بیشتر الٹی میٹم ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران سے مذاکرات جاری ہیں، یہ ان کا آخری موقع ہے، ورنہ تباہی ہوگی، صدر ٹرمپ

حال ہی میں چائلڈ لیبر کے الزامات کی بنیاد پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان پر مالیاتی منڈیوں میں کوئی بڑی ہلچل نہیں دیکھی گئی۔ فرانس اور برطانیہ کے حکام نے ان اقدامات کو بے اثر قرار دیا ہے جبکہ میکسیکو نے اسے محض ایک روایتی قدم کہا ہے۔

عالمی سفارت کاروں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا سب سے بڑا سیاسی ہتھیار یعنی دھمکیوں کے ذریعے غیر یقینی صورتِ حال پیدا کرنا اب کمزور پڑ چکا ہے۔

ماہرین نے اس کیفیت کو ایک نیا نام بھی دیا ہے، جس کے تحت سرمائے کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ پہلے سخت دھمکیاں دیتے ہیں اور بعد میں اپنے قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں۔

ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی محدود صلاحیت کھل کر سامنے آئی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں ایران کے قائد سید علی خامنہ ای اور دیگر سینئر حکام شہید ہو گئے لیکن اس کے باوجود اسلامی جمہوریہ کا نظام قائم رہا اور اس نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔

امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن تہران نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ اسپین اور اٹلی جیسے یورپی اتحادیوں نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے لیے اپنے فوجی اڈے اور فضائی حدود دینے سے واضح انکار کر دیا۔

اگرچہ ٹرمپ نے وینسویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کارروائی اور دیگر عسکری اقدامات سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن عالمی سطح پر اس کا اثر اب ختم ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کے ممالک اب امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے مذاکرات اور مزاحمت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔