انڈیا میں کاکروچ تحریک کو ملک بھر سے کھانا اور سامان پہنچانے کا سلسلہ جاری

بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری کاکروچ تحریک کو ملک بھر سے آن لائن ایپس کے ذریعے بے شمار کھانا اور پانی بھیجا جا رہا ہے، جس نے اس احتجاج کو حکومت کے لیے ایک عظیم طاقت میں بدل دیا ہے۔
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو پورے ملک سے زبردست حمایت حاصل ہو رہی ہے اور مظاہرین کے لیے کھانا اور پینے کا پانی انتہائی باقاعدگی کے ساتھ پہنچایا جا رہا ہے۔
ہر چند منٹ کے بعد موٹر سائیکلوں پر سوار ڈیلیوری کرنے والے افراد برگر، فاسٹ فوڈ، روایتی انڈین کھانے اور پانی کی بوتلیں لے کر احتجاج کے مقام کے باہر پہنچ رہے ہیں۔ وہاں موجود رضاکار اس سامان کو وصول کر کے ترتیب سے رکھتے ہیں اور پھر مظاہرین میں تقسیم کر دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انڈیا کے مختلف شہروں سے ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے حامی آن لائن فوڈ ڈیلیوری ایپس کا استعمال کرتے ہوئے دارالحکومت میں دھرنا دیے ہوئے لوگوں کے لیے کھانا بھیج رہے ہیں۔
اس اقدام نے اس نوجوان تحریک کو ایک نئی طاقت فراہم کی ہے۔ کھانے پینے کی اس مسلسل فراہمی سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تحریک عوامی سطح پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا اور سخت چیلنج بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تعلیمی بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس پر نوجوانوں کا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا
خاص بات یہ ہے کہ کھانا بھیجنے والے اکثر افراد کبھی خود نئی دہلی کے اس احتجاجی مقام پر نہیں گئے اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔
وہ سیدھا مظاہرین کے نام پر آرڈر دیتے ہیں اور ڈیلیوری بوائز کو ہدایت کرتے ہیں کہ یہ کھانا سڑک پر موجود کسی بھی مظاہرین کو دے دیا جائے۔
ایک 24 سالہ نوجوان شکتی وششت نے بتایا کہ ہر ڈیلیوری اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ جو لوگ کسی وجہ سے خود یہاں نہیں آ سکتے، وہ بھی اس تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنا پیار بھیج رہے ہیں۔
یہ احتجاج بنیادی طور پر اہم میڈیکل کالجوں اور سرکاری ملازمتوں کے داخلہ امتحانات کے پرچے بار بار لیک ہونے کے خلاف شروع ہوا تھا۔
اس بدنظمی اور پیپر لیکس کی وجہ سے بعض ذہنی دباؤ کے شکار طلبہ نے خودکشی تک کر لی تھی۔ بعد میں یہ تحریک صرف امتحانات تک محدود نہ رہی بلکہ حکومت سے شفافیت اور جوابدہی کے بڑے مطالبے میں تبدیل ہو گئی اور اب نئی دہلی کا جنتر منتر اس کا مرکزی مقام بن چکا ہے، جہاں ہزاروں افراد جمع ہیں۔
پولیس نے پیر کے روز مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، لیکن مظاہرین پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
اس پولیس کارروائی کے بعد عوام کے غصے میں مزید اضافہ ہو گیا اور اب اس احتجاج میں طلبہ کے ساتھ ساتھ مختلف پیشوں سے وابستہ افراد، والدین اور عام شہری بھی شامل ہو رہے ہیں۔
عوام کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے خوراک کی ضرورت بڑھ گئی ہے، تاہم عطیات کی اتنی زیادہ آمد ہو رہی ہے کہ منتظمین کو اب لوگوں سے اپیل کرنا پڑ رہی ہے کہ وہ مزید کھانے کا آرڈر نہ بھیجیں کیونکہ کھانا ضرورت سے زیادہ جمع ہو چکا ہے۔
ایک کورئیر والے کے مطابق اس نے اکیلے 19 بار وہاں کھانا پہنچایا ہے اور ایک ہی بار میں 70 پیزا ڈیلیور کیے گئے، جو 25 کلومیٹر دور شہر سے بھیجے گئے تھے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












