جمعرات، 4-جون،2026
جمعرات 1447/12/18هـ (04-06-2026م)

امریکہ میں شدید ترین معاشی کساد بازاری کا خدشہ، ایران جنگ کے اثرات پر موڈیز کی ٹرمپ کو وراننگ

03 جون, 2026 09:48

موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہفتے کے اندر ایران کے ساتھ کوئی سفارتی معاہدہ نہ کیا تو توانائی کے بڑھتے بحران کے باعث امریکی معیشت شدید ترین کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی۔

امریکہ کو اس وقت شدید معاشی خطرات کا سامنا ہے کیونکہ ایران کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس پر معاشی ماہرین نے وارننگ دی ہے کہ پٹرولیم مارکیٹ کو لگنے والا یہ طویل جھٹکا امریکہ کو تباہ کن معاشی کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

بلومبرگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے موڈیز اینالیٹکس کے چیف اکانومسٹ مارک زانڈی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی معیشت کے پاس خام تیل اور پٹرول کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچنے کے لیے بہت ہی محدود وقت رہ گیا ہے۔

فنانشل مارکیٹس اس وقت تمام تر امیدیں ایران کے ساتھ کسی فوری سفارتی بریک تھرو پر لگائے بیٹھی ہیں تاکہ عالمی انرجی مارکیٹ پر دباؤ کم ہو سکے اور تیل کی قیمتوں میں جاری اس خطرناک اضافے کا رخ موڑا جا سکے۔

مارک زانڈی کے مطابق یہ امن معاہدہ اگلے 1، 2 یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے اندر ہونا لازمی ہے، کیونکہ اگر ایک ہفتے میں معاہدہ نہ ہوا تو پھر امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا اور حقیقی مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے ساتھ ایک ہفتے میں معاہدہ ممکن ہے، آبنائے ہرمز کھل جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ان خدشات کے باعث ہو رہا ہے کہ خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی سے سپلائی لائنیں مکمل طور پر منقطع ہو سکتی ہیں، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز کا بحری راستہ متاثر ہوتا ہے، جو تیل کی برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

موڈیز کے ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں تو امریکی صارفین پر بوجھ بڑھے گا، جس سے خریداری کی قوت کم ہو جائے گی اور معاشی سرگرمیاں سست پڑ جائیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمت 5 ڈالر فی گیلن سے اوپر جانا وہ خطرناک حد ہے جو پہلے سے کمزور امریکی معیشت کو فوری طور پر کساد بازاری میں بدلنے کے لیے کافی ہو گی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر میں ہونے والی تاریخی کمی کی طرف بھی اشارہ کیا، جو امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 365 ملین بیرل کی سطح پر آ چکے ہیں، جو گزشتہ 2 سال کی کم ترین سطح ہے۔

مارک زانڈی کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تو یہ اس بات کی حتمی علامت ہوگی کہ اب امریکی معیشت کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔