وینزویلا اور ایران کا تیل کس طرح عالمی تنازعات کا مرکز بن گیا

دنیا بھر میں جاری سیاسی اور نظریاتی جنگوں کے پیچھے صرف طاقت کی ہوس نہیں بلکہ تیل کی کیمسٹری اور دو بڑے ملکوں وینزویلا اور ایران کا باہمی ملاپ بھی شامل ہے، جس نے عالمی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔
وینزویلا کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کا یہ تیل انتہائی بھاری اور گارے کی طرح گاڑھا ہے، جس میں سلفر اور دھاتیں بہت زیادہ مقدار میں شامل ہوتی ہیں۔
اپنی قدرتی حالت میں اس تیل کو نہ تو پائپ لائنوں کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جا سکتا ہے اور نہ ہی عام کارخانوں میں اسے صاف کیا جا سکتا ہے۔
اس مشکل کو حل کرنے کے لیے ایران نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ ایران ایک ہلکا اور تیزی سے اڑنے والا تیل پیدا کرتا ہے، جو ایک کیمیائی سالوینٹ یعنی سالو کرنے والے مادے کے طور پر کام کرتا ہے۔
جب وینزویلا کے تین بیرل بھاری تیل میں ایران کا ایک بیرل ہلکا تیل ملایا جاتا ہے تو اس سے ایک نئی قسم کا مکسچر بنتا ہے جسے ایشیا اور خاص طور پر چین کے کارخانوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی افواج کو عراق اور ایران میں نہیں ہونا چاہیے تھا، ڈونلڈ ٹرمپ
برسوں سے یہ دونوں ملک مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک خفیہ نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے ہیں، جہاں ایران مکس کرنے کا مادہ دیتا ہے، وینزویلا تیل فراہم کرتا ہے اور چین اسے خریدتا ہے۔
دوسری طرف امریکہ کے پاس اگرچہ اپنا ہلکا تیل موجود ہے لیکن اس کے کارخانوں کو ڈیزل اور جہازوں کے ایندھن جیسے مہنگے پروڈکٹس بنانے کے لیے اس بھاری تیل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ زیادہ منافع کما سکے۔
امریکہ اب بھی کینیڈا اور میکسیکو سے یہ بھاری تیل منگواتا ہے لیکن وینزویلا کے ذخائر اس کے لیے زیادہ قریب اور سستے پڑتے ہیں۔
وینزویلا کے تیل پر کنٹرول حاصل کر کے امریکہ نہ صرف ایران اور چین کے اس نیٹ ورک کو توڑنا چاہتا ہے بلکہ اپنے کارخانوں کو زیادہ فعال بنا کر بھاری منافع کمانے کی کوشش میں ہے، اور یہی موجودہ عالمی توانائی کے بحران کا سب سے بڑا سبب ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












