امریکی وزیر جنگ کا دنیا میں طاقت کے توازن کا مطالبہ دراصل شکست کا اعتراف ہے

امریکی وزیر جنگ نے شانگری لا ڈائیلاگ میں دنیا کو طاقت کے پائیدار توازن پر لیکچر دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین سمیت کوئی بھی ملک اپنی بالادستی قائم نہیں کر سکتا۔
ایران کی جنگ میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد اب امریکی وزیر جنگ عالمی سطح پر طاقت کے پائیدار اور مستحکم توازن کی باتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے سنگاپور میں ہونے والے شانگری لا ڈائیلاگ کے دوران بیان دیا کہ امریکہ خطے میں ایک ایسا سازگار اور دیرپا توازن چاہتا ہے، جس میں چین سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک اپنی اجارہ داری قائم نہ کر سکے۔
لیکن اگر حقائق کا جائزہ لیا جائے تو امریکی وزیر کا یہ بیان دراصل اپنی شکست کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضرورت پڑی تو ایران کے خلاف فوجی آپریشن دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے، امریکی وزیر جنگ
امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے میزائلوں اور دفاعی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ختم کر چکا ہے، جسے دوبارہ بحال کرنے میں اب کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ جب امریکہ نے آبنائے ہرمز میں اپنے اتحادیوں سے فوجی مدد مانگی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پینٹاگون اس وقت آواز کی رفتار سے تیز چلنے والے ہائپرسونک ہتھیاروں اور ڈرون طیاروں کی جدید ٹیکنالوجی میں روس اور چین سے بہت پیچھے رہ گیا ہے، کیونکہ ان دونوں شعبوں میں روس اور چین کو مکمل برتری حاصل ہے۔
لہٰذا، امریکی وزیر جنگ جسے ایک تعمیری تجویز کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، وہ دراصل امریکہ کی اس کمزوری کا اعتراف ہے کہ اب وہ دنیا پر اکیلے اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا، اسی لیے وہ اب طاقت کے توازن کی بھیک مانگ رہا ہے۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











