اتوار، 22-مارچ،2026
اتوار 1447/10/03هـ (22-03-2026م)

راوی، ستلج اور چناب، ہر طرف پانی ہی پانی؛ شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی، 17 اموات کی تصدیق

28 اگست, 2025 13:00

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے پر راوی، ستلج اور چناب، ہر طرف آب ہی آب؛ شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی، اموات 17 ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق کئی مقامات پر بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا، فصلیں زیر آب آگئیں جبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔

لاہور میں دریائے راوی میں پانی کے بہاؤ میں تیزی آگئی ہے جس کے نتیجے میں فرخ آباد شاہدرہ کی رہائشی کالونی میں سیلابی پانی داخل ہوگیا۔

حکام کے مطابق راوی میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 97 ہزار 800 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ سیلابی ریلے کے باعث متعدد گھروں میں 2 سے 3 فٹ تک پانی جمع ہوگیا، جس سے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

علاقہ مکینوں نے قیمتی سامان چھتوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے جبکہ کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

انتظامیہ نے صورتحال کے پیشِ نظر قبل از وقت انخلا کا عمل مکمل کیا اور 100 سے زائد گھروں کو خالی کراکر مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق علاقے میں ہنگامی نفری تعینات کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جاسکے۔

راوی کے کنارے مزید آبادیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے جبکہ گلیاں اور رہائشی علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال نے روزمرہ زندگی بری طرح متاثر کردی ہے اور وہ اپنے قیمتی سامان سمیت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔

دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے، راوی سائفن سے ایک لاکھ 97 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کشتی میں سوار ہوکر شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کشتی میں سوار ہوکر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا، حکام نے وزیراعلیٰ پنجاب کو بریف کیا۔

 سیلابی راستوں سے مٹی ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ریسکیو کے مزید اہلکار طلب اور اضافی کشتیاں بھی منگوا لی گئی ہیں۔ کمشنر لاہور کے مطابق راوی سائفن پر پانی کا بہاو مستحکم ہوگیا ہے، شاہدرہ پر بھی کچھ گھنٹوں میں پانی کا بہاو مستحکم ہونے کا امکان ہے، راوی کے بیڈ سے انخلاء مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ قریبی علاقوں سے انخلاء جاری ہے۔

سیلابی راستوں سے مٹی ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ریسکیو کے مزید اہلکار طلب اور اضافی کشتیاں بھی منگوا لی گئی ہیں۔

دریائے راوی کے قریب شاہدرہ کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ نارووال، گجرات، سیالکوٹ میں صورتحال بہت خراب ہے، تمام متعلقہ اداروں سے آئندہ سال کے لیے سیلاب سے بچاؤ اور نقصانات سے بچنے کے لیے منصوبہ طلب کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے ہر جان انتہائی قیمتی ہے، لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ہماری بھرپور امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ بھارت میں بارشوں کے بعد ڈیموں میں پانی کا لیول بھر گیا تو انہوں نے اپنے ڈیمز کے اسپل ویز کھولے، جس سے ہمارے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، پنجاب کے 3 دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، پنجاب میں بارشیں بھی بہت زیادہ ہوئی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم اپنے متاثرہ عوام کے ہر قسم کے نقصان کا ازالہ کریں گے، میں نے راوی میں کبھی اتنا پانی نہیں دیکھا، پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے انفرااسٹرکچر بنانا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس چیز پر کام کر رہے ہیں کہ سیلابی پانی کو کس طرح ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، اب پانی کا بہاؤ کم ہونا شروع ہو رہا ہے، ہمیں سیاست سے بالاتر ہوکر عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کرنے چاہئیں۔

سیلاب سے مختلف حادثات میں 12 اموات کی تصدیق؛

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سیلابی صورتحال ہے لہٰذا عوام سے اپیل ہے کہ دریا کنارے مت جائیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تمام ادارے الرٹ ہیں۔

کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن کا بیان

کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نوید حیدر شیرازی نے بتایا کہ سیلاب سے 7 افراد جاں بحق، جس میں سے گجرات میں 3، سمبڑیال میں 2 افراد، گوجرانوالہ شہر اور نارووال میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔

دریائے ستلج میں سیلابی پانی کا دباؤ شدید ہونے کے بہاولپور میں باعث بستی یوسف والا اور احمد والا کے عارضی بند ٹوٹ گئے، بند ٹوٹنے سے بستی احمد بخش اور قریبی آبادیاں بھی سیلابی پانی میں گھر گئی ہیں۔

پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث زمینی کٹاؤ میں تیزی آ گئی ہے، سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت کپاس، دھان سمیت کئی فصلیں زیر آب آگئی ہیں جبکہ دریا کے بیٹ میں آباد سیکڑوں افراد اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہیں۔

دریائے چناب میں کوٹ مومن کی حدود میں 6 لاکھ کیوسک کا ریلا داخل ہوا، پانی کھیتوں اور قریبی آبادیوں میں داخل ہونا شروع ہو گیا جبکہ آج 10 لاکھ کیوسک کا ریلا کوٹ مومن سے گزرنے کا امکان ہے۔

ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، ریلیف کیمپس فعال اور انتظامی ادارے ہائی الرٹ ہیں، 2500 کے قریب افراد اور 1700 سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریلا گزرنے کے بعد بحالی اقدامات اور نقصان کی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔

دریائے ستلج میں وہاڑی کے مقام پر لڈن کے قریب موضع نون میں حفاظتی بند ٹوٹ گیا جس سے پانی قریبی دیہات میں داخل ہونے سے درجنوں بستیاں زیرِ آب آگئیں۔

دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ہیڈ بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے 30 افراد کو محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

نوشہرو فیروز میں کنڈیارو کے قریب دریائے سندھ میں زمینداری بند ٹوٹ گیا، دریائی بند ٹوٹنے سے پانی بچاؤ بند سے ٹکرا گیا جس سے کچے کا علاقے میں سیکڑوں ایکڑ پر کپاس، دھان، تل، جوار اور دیگر فصلیں اور 5 گاؤں زیر آب آ گئے۔

چھوٹے ڈیموں کی تیاری آج سے ہی شروع کرنا ہوگی، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے ڈیموں کی تیاری آج سے ہی شروع کرنا ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور گلگت میں سیلاب سے شدید نقصان ہوا، کے پی اور جی بی کے بعد اب پنجاب کو سیلاب کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال ہے، تمام متعلقہ ادارے مکمل الرٹ، دن رات کام کررہے ہیں، پنجاب حکومت کے اقدامات لائقِ تحسین ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے، 2022 میں بھی سیلاب کی صورت میں آفت آئی تھی، پاکستان کی معیشت کو کئی ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بدقسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جو قدرتی آفات کا نشانہ ہیں، آئندہ چند سال یہ سلسلہ جاری رہے گا، وفاق اور چاروں اکائیاں مل کر آفات کا مقابلہ کریں گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں وسائل خود پیدا کرنے ہوں گے، وقت ضائع کیے بغیر تیاری کرنی چاہیے، وفاق اور صوبے سر جوڑ کر بیٹھیں گے تو حل ڈھونڈ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اعلان کیا کسانوں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے، تمام ادارے ایک ٹیم کی طرح کام کررہے ہیں، افواج پاکستان بھی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، چھوٹے ڈیموں کی تیاری آج سے ہی شروع کرنا ہوگی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔