اتوار، 22-مارچ،2026
ہفتہ 1447/10/02هـ (21-03-2026م)

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں؛ 1769 گاؤں ڈوب گئے، 14 لاکھ افراد متاثر

30 اگست, 2025 09:00

پنجاب میں دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث سیلابی صورتحال شدت اختیار کر گئی ہے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی کے سبب ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑا۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے اور انتظامیہ نے قریبی دیہات خالی کرانے کے اعلانات کر دیے ہیں۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق وہاں پانی کے بہاؤ میں کمی آ رہی ہے جو 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک سے کم ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار 828 کیوسک تک آگیا ہے، تاہم ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر اب بھی خطرات موجود ہیں۔

ادھر دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جو ایک لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک تک پہنچ گئی ہے۔

ہیڈ سدھنائی پر بھی پانی میں اضافہ جاری ہے، تاہم شاہدرہ اور جسڑ کے مقامات پر کمی دیکھی گئی ہے، دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر بھی پانی کی آمد بڑھ رہی ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے سے آنے والا پانی قصور کی سمت بڑھا ہے اور دریائے ستلج میں 1955 کے بعد سب سے زیادہ پانی آیا ہے، جس کے باعث قصور شہر کو بچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور محفوظ ہے، تاہم دریائے راوی کی طغیانی کے باعث آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت کئی اضلاع کے لیے مشکل ہوں گے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں اب تک سیلاب کے باعث 28 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، تاہم بروقت ریسکیو کارروائیوں سے بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔