ہفتہ، 7-مارچ،2026
جمعہ 1447/09/17هـ (06-03-2026م)

مودی کی اسرائیل نواز پالیسی بھارت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے : امریکی جریدہ

06 مارچ, 2026 12:54

امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ مودی کی اسرائیل نواز پالیسی سے ایران کے ساتھ تعلقات، خلیجی ممالک میں بھارت کے معاشی مفادات اور لاکھوں بھارتی تارکین وطن کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی جریدے ڈی سی جرنل نے وزیر اعظم نریندر مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے ممکنہ منفی اثرات پر تفصیلی تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکمت عملی سے مشرق وسطیٰ میں بھارت کے مفادات اور سفارتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

جریدے کے مطابق مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل محض ایک معمول کا سفارتی دورہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام تھا، جس نے خطے میں بھارت کی خارجہ پالیسی کے رخ کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی قیادت کے ساتھ مودی کی کھلی قربت نے بھارت کی اس روایتی پالیسی کو کمزور کر دیا ہے جس کے تحت نئی دہلی مختلف ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

جریدے کے مطابق خاص طور پر ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات اس پالیسی تبدیلی سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ نئی دہلی کا اسرائیل کی طرف بڑھتا جھکاؤ تہران کے ساتھ اعتماد کے رشتے کو کمزور کر سکتا ہے۔

ڈی سی جرنل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے باعث خطے میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بھارت اب اسرائیل کے حامی سکیورٹی بلاک کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تاثر کے نتیجے میں خلیجی ممالک کے عوامی حلقوں میں بھارت کے بارے میں منفی رائے پیدا ہو سکتی ہے، جس سے نئی دہلی کے معاشی اور سفارتی مفادات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی تارکین وطن پر پڑ سکتا ہے جو برسوں سے خطے کی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : توانائی بحران اور ترسیلات زر میں کمی، بھارتی معیشت مشکلات کا شکار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر خطے میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھی تو بھارتی کارکنوں کو ویزا پالیسی میں سختی، ملازمتوں میں مشکلات اور سماجی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں بھارتی تارکین وطن کی بڑی تعداد موجود ہے اور ان کی ترسیلات زر بھارت کی معیشت کے لیے اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔

جریدے کے مطابق اگر خطے میں ردعمل پیدا ہوا تو نہ صرف بھارتی کارکنوں کے حالات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ بھارت کو ملنے والی ترسیلات زر میں بھی کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ مزید کہتی ہے کہ مودی کی اسرائیل نواز پالیسی ایران کے ساتھ بھارت کے اسٹریٹجک مفادات کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جو خطے میں اہم علاقائی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ امریکی دباؤ کے باعث ایران میں واقع چابہار بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبے پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس میں بھارت نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

جریدے کے مطابق اگر یہ منصوبہ متاثر ہوا تو نہ صرف بھارت کو معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے بلکہ خطے میں اس کی اسٹریٹجک رسائی بھی محدود ہو سکتی ہے۔

ڈی سی جرنل نے اپنے تجزیے میں خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار نہ رکھا تو اسے مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں غیر ضروری خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔