تیل تنصیبات اور پانی کے پلانٹ پر حملے، ایران نے سنگین نتائج کی وارننگ دے دی

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی تیل ذخائر اور ایک میٹھا پانی بنانے والے پلانٹ پر حملوں کے بعد ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی تیل کی تنصیبات اور میٹھا پانی تیار کرنے والے ایک پلانٹ پر کیے گئے حملوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل ان حملوں کے ذریعے دو بڑے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایک مقصد ایران کی عوام کو خوفزدہ کرنا ہے کیونکہ تہران کے آسمان پر نظر آنے والے بڑے دھماکے عوام میں شدید خوف پیدا کرتے ہیں۔ دوسرا مقصد ایران کی معیشت اور فوجی نقل و حرکت کو متاثر کرنا ہے کیونکہ تیل کی تنصیبات اور توانائی کے مراکز ایرانی عوام کی زندگی اور معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ان حملوں کے بعد ایران میں خاص طور پر اس واقعے پر شدید تشویش اور مذمت سامنے آئی، جس میں میٹھا پانی بنانے والے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ: دنیا بھر سے امریکہ پر دباؤ، 12 ممالک کی ثالثی کی کوششیں
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے ذریعے ایک پیغام میں کہا کہ امریکا نے جزیرہ قشم پر میٹھا پانی تیار کرنے والے پلانٹ پر حملہ کرکے کھلا اور مایوس کن جرم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں تیس دیہاتوں کو فراہم ہونے والی پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک خطرناک قدم ہے، جس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیوں کی مثال امریکا نے قائم کی ہے، ایران نے نہیں۔ مبصرین کے مطابق ایران جب اس مثال کا ذکر کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اسی نوعیت کا جواب دینے پر غور کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں میٹھا پانی بنانے والے پلانٹس انتہائی حساس تنصیبات ہیں کیونکہ خلیج کے ممالک اپنی پینے کے پانی کی تقریباً نوے فیصد ضرورت اسی عمل کے ذریعے پوری کرتے ہیں۔ اس لیے اگر ایسے پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









