ایران کے نئے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے دوران مجلس خبرگان نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا رہبر منتخب کر لیا ہے۔
سید مجتبیٰ خامنہ ای کی شخصیت طویل عرصے سے ایرانی سیاست اور مذہبی حلقوں میں اثر و رسوخ کی حامل رہی ہے، تاہم اب پہلی بار وہ باضابطہ طور پر ایران کے سب سے طاقتور منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ ان کی قیادت کو نہ صرف ایران کے داخلی سیاسی نظام بلکہ پورے خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس خبرگان نے ایک تاریخی اور غیر معمولی فیصلے میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبر منتخب کر لیا ہے۔ وہ اپنے والد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جانشین بنے ہیں، جنہیں اٹھائیس فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید کر دیا گیا تھا۔
ایرانی قیادت میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو اپنی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور خطرناک عالمی حالات کا سامنا ہے اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ نے پورے خطے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔
چھپن سالہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سن انیس سو انہتر میں ایران کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ انقلابِ اسلامی کے نظریات، مذہبی تعلیم اور سیاسی ماحول میں گزرا۔
ان کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ روایتی سیاسی رہنماؤں کی طرح حکومت کے بڑے عہدوں پر فائز ہو کر منظر عام پر نہیں آئے بلکہ انہوں نے بتدریج غیر رسمی حلقوں میں اثر و رسوخ پیدا کیا۔
ایرانی سیکورٹی اداروں، مذہبی مراکز اور سیاسی شخصیات کے ساتھ ان کے مضبوط روابط نے انہیں ایران کے طاقت کے مراکز میں ایک بااثر شخصیت بنا دیا۔
سید مجتبیٰ خامنہ ای کا بچپن ایران کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم دور میں گزرا۔ ان کی پیدائش اسلامی انقلاب سے کچھ ہی عرصہ قبل ہوئی تھی اور جب انقلاب کامیاب ہوا تو ان کا خاندان ایرانی سیاست اور مذہبی قیادت کے مرکز میں موجود تھا۔
اس ماحول نے انہیں کم عمری میں ہی ریاستی نظام، حکومتی فیصلوں اور اقتدار کے طریقہ کار سے واقف کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایران کے سیاسی ڈھانچے اور ادارہ جاتی نظام کے بارے میں گہری سمجھ حاصل ہے۔
تعلیم کے میدان میں انہوں نے قم کے معروف حوزہ علمیہ کا رخ کیا، جو شیعہ عالمِ دین کی اعلیٰ ترین تعلیم کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہاں انہوں نے فقہ اور اصولِ فقہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور دینی علوم کے ان مراحل تک پہنچے جو مرجعیت کے درجے سے قبل کے اعلیٰ مراحل شمار ہوتے ہیں۔
ان کی مذہبی تعلیم نے انہیں صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک عالمِ دین کے طور پر بھی شناخت دی، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر کے منصب کے لیے ایک بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔
انیس سو اسی کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ نے سید مجتبیٰ خامنہ ای کی سیاسی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ اسی دور میں ان کا تعلق پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قائم ہوا اور وہ ان فوجی دستوں کے ساتھ وابستہ رہے، جنہوں نے جنگ کے میدان میں حصہ لیا۔
اس جنگی تجربے کے دوران ان کے ایسے تعلقات قائم ہوئے جو بعد میں ایران کی عسکری قیادت میں اہم عہدوں تک پہنچنے والے افراد پر مشتمل تھے۔ یہی تعلقات آج ایران کی فوجی اور سیکورٹی قیادت کے ساتھ ان کے مضبوط اعتماد کا سبب سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب
عراق کے خلاف جنگ کو ایران میں دفاعِ مقدس کہا جاتا ہے اور اس جنگ میں شریک ہونے والے افراد ایک ایسے مشترکہ تجربے سے گزرے، جس نے انہیں نظریاتی وابستگی، قربانی اور باہمی اعتماد کے رشتے میں جوڑ دیا۔
یہی پس منظر سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی موجودہ عسکری قیادت کے قریب لے آیا اور انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جس پر فوج اور سیکورٹی ادارے مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔
ان کی سیاسی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہوں نے طویل عرصے تک کسی بڑے سرکاری عہدے کے بغیر بھی اثر و رسوخ برقرار رکھا۔
کئی دہائیوں تک وہ عوامی منظرنامے میں نسبتاً کم دکھائی دیتے رہے لیکن ایران کے سیاسی تجزیوں میں ان کا نام مسلسل اہمیت اختیار کرتا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مختلف ریاستی اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے، پالیسی سازی میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور رہبر کے دفتر اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سن دو ہزار نو میں ایران میں ہونے والے سیاسی بحران کے دوران بھی ان کا نام نمایاں طور پر سامنے آیا۔ اس وقت ایران کے اندرونی سیاسی حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور اسی دوران سید مجتبیٰ خامنہ ای کے اثر و رسوخ کے بارے میں بحث شدت اختیار کر گئی۔
اس واقعے کے بعد سے ایران کی سیاسی سمت اور طاقت کے توازن کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں ان کا نام مستقل طور پر شامل رہا۔
سیاسی اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ انہوں نے مذہبی تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ سترہ برس سے زیادہ عرصے تک قم کے حوزہ علمیہ میں فقہ اور اصولِ فقہ کے اعلیٰ دروس دیتے رہے۔
مذہبی حلقوں میں ان کی علمی صلاحیت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور متعدد علماء نے ان کے علمی مقام کا اعتراف کیا ہے۔ مذہبی تعلیم اور سیاسی روابط کا یہی امتزاج انہیں ایران کی قیادت کے لیے ایک منفرد امیدوار بناتا ہے۔
مجلس خبرگان کا یہ فیصلہ بیک وقت تسلسل اور تبدیلی دونوں کی علامت سمجھا جا رہا ہے، جو ایران کے انقلابی نظام کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے تو دوسری طرف یہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
ایران کا سیاسی نظام عمومی طور پر خاندانی جانشینی کو قبول نہیں کرتا اور یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای خود اپنے بیٹے کی ممکنہ جانشینی کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے۔
تاہم موجودہ حالات معمول سے مختلف ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید کیا گیا۔
اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو قیادت کو مفلوج کرنے کی حکمت عملی قرار دیا تھا، جس کا مقصد ایران کے فیصلہ سازی کے نظام کو کمزور کرنا تھا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کھلے عام سید مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت کے لیے ناموزوں قرار دیا اور اشارہ دیا کہ امریکہ ایک ایسے جانشین کو دیکھنا چاہتا ہے جو خطے میں امریکی پالیسیوں کے مطابق کام کرے۔
ایسی صورتحال میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب صرف خاندانی جانشینی نہیں بلکہ ایران کے مذہبی اور عسکری اداروں کی جانب سے بیرونی دباؤ کے خلاف ایک اجتماعی ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ قومی خودمختاری کے دفاع اور بیرونی مداخلت کو مسترد کرنے کی علامت ہے۔
اپنی تقرری کے بعد سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ امام روح اللہ خمینی کے قائم کردہ انقلابی راستے کو جاری رکھیں گے اور اپنے والد کے چونتیس سالہ دورِ قیادت کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق قیادت کی یہ تبدیلی ایک طرف روایتی اصولوں کے تسلسل کی علامت ہے جبکہ دوسری طرف نئے دور کے تقاضوں کے مطابق اسلامی جمہوریہ کو آگے بڑھانے کی کوشش بھی ہے۔
ایران کے سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مجلس خبرگان کا یہ فیصلہ ایرانی عوام کے لیے خود انحصاری اور ترقی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہوگا۔
نائب صدر رضا عارف نے بھی سید مجتبیٰ خامنہ ای کی حمایت کرتے ہوئے انہیں قیادت کے لیے مخلص اور باصلاحیت شخصیت قرار دیا ہے جو ریاستی امور سے بخوبی آگاہ ہیں۔
اصلاح پسند دانشور عطا اللہ مہاجرانی نے بھی اس انتخاب کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ایران کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اس معاملے پر ایک غیر معمولی اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
ایران کی عدلیہ نے بھی اس عمل کو مکمل طور پر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج نے بھی نئے رہبر کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر دیا ہے۔ خاتم الانبیاء مرکزی کمانڈ کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج نئے رہبر کے احکامات کی مکمل اطاعت کریں گی اور اسلامی انقلاب کے بانیوں کے اصولوں کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھیں گی۔
خطے میں ایران کے اتحادیوں نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے اس انتخاب کو ایران کی طاقت اور اتحاد کی علامت قرار دیا۔
یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر نے بھی اعتماد ظاہر کیا ہے کہ ایران عالمی استکبار کے مقابلے میں بڑی کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
عراق کی تنظیم کتائب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل ابو حسین الحمیداوی نے بھی مجلس خبرگان کے فیصلے کو بصیرت کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش چیلنجز کے دوران ایک مضبوط قیادت کا انتخاب نہایت اہم ہے۔
ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اس تبدیلی کو دشمنوں کے اندازوں کی ناکامی قرار دیا۔ ان کے مطابق بعض قوتوں کو امید تھی کہ رہبر کی شہادت کے بعد ایران سیاسی بحران کا شکار ہو جائے گا، لیکن نئے رہبر کے انتخاب نے ثابت کر دیا کہ ایرانی ریاستی نظام مضبوط اور مستحکم ہے۔
بین الاقوامی مبصرین بھی اس فیصلے کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سید مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے تیار نہیں۔
اب جب کہ ایران ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے تو سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو متعدد بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں فوجی حکمت عملی، جوہری پروگرام، عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات اور انقلاب کے نظریاتی راستے کے بارے میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











