کویت کے سول ریڈار اور عراق کی اربیل ریفائنری پر حملوں کے پیچھے امریکہ ہے، ایران

ایران کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے شہر اربیل میں آئل ریفائنری پر ہونے والے ڈرون حملے میں نہ ایران ملوث ہے اور نہ ہی کسی مزاحمتی تنظیم کا اس سے تعلق ہے، بلکہ اس کارروائی کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ایک ذریعے نے لبنانی نشریاتی ادارے المیادین کو بتایا کہ اربیل میں آئل ریفائنری پر حملہ ایران یا کسی مزاحمتی گروہ نے نہیں کیا۔ دستیاب شواہد کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے کی گئی تاکہ خطے میں مزید کشیدگی پیدا کی جا سکے۔
ذریعے نے مزید کہا کہ امریکہ نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر نصب ایک شہری ریڈار کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اس حملے کا مقصد خطے میں خوف اور افراتفری کی فضا پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر ایرانی ڈرون کی نقل تیار کرنے کا الزام
کویتی حکام کے مطابق حالیہ حملوں کے دوران کئی ڈرون کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک پہنچے اور انہوں نے وہاں نصب ریڈار نظام کو نقصان پہنچایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ریڈار نظام کو نقصان پہنچنے کے باعث فضائی نگرانی کے نظام میں عارضی خلل پیدا ہوا۔
اسی دوران عراق کے شمالی شہر اربیل میں واقع ایک تیل کی تنصیب پر بھی ڈرون حملہ ہوا، جس کے بعد ریفائنری کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئیں تاکہ نقصان کا جائزہ لیا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












