پیر، 16-مارچ،2026
پیر 1447/09/27هـ (16-03-2026م)

امریکہ کے دباؤ کے باوجود برطانیہ کی خلیج میں محدود فوجی تعیناتی

16 مارچ, 2026 09:41

ا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک اور شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوری فوجی تعاون کے مطالبے کے بعد برطانیہ نے خطے میں انتہائی محدود فوجی دستہ بھیج کر محتاط حکمت عملی اختیار کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق برطانوی بحریہ کے بارودی سرنگوں اور خطرات سے نمٹنے والے یونٹ کے صرف آٹھ اہلکار گزشتہ ماہ پورٹس ماؤتھ سے بحرین روانہ کیے گئے تھے۔

یہ دستہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے چند روز قبل خلیج میں پہنچا تھا۔ اس یونٹ کے پاس جدید خودکار بارودی سرنگ تلاش کرنے والی ٹیکنالوجی موجود ہے، تاہم اس اسکواڈرن کو اب تک کسی حقیقی جنگی ماحول میں آزمایا نہیں گیا، جس کے باعث ماہرین اس کی عملی افادیت کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر برطانیہ سمیت اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے بحری بیڑہ بھیجیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس اہم آبی راستے سے متاثر ہونے والے ممالک کو عالمی سطح پر مشترکہ بحری کارروائی میں شامل ہونا چاہیے۔ تاہم برطانیہ کی جانب سے اٹھایا گیا قدم صدر ٹرمپ کی توقعات سے کہیں کم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اگر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں تو سرنڈر کر دیں، ایران کی ڈیل کی شرائط ہمیں پسند نہیں، ٹرمپ

کبھی خلیج میں نمایاں بحری طاقت رکھنے والی برطانوی بحریہ اس وقت محدود وسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک جنگی جہاز قبرص کے دفاعی مشن پر تعینات ہے جبکہ ایک اور جہاز ممکنہ انخلاء کی مشقوں میں مصروف ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق چند دیگر جہاز نظریاتی طور پر خلیج کی جانب روانہ ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں پہنچنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق برطانوی بحریہ کے کئی جہاز اس وقت مرمت، تربیت یا دیگر ذمہ داریوں میں مصروف ہیں، جس کے باعث فوری طور پر کسی بڑے جنگی جہاز کو خلیج بھیجنا ممکن نہیں۔

ایک دفاعی اہلکار نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ خلیج میں تعینات کیا جانے والا چھوٹا دستہ اس سطح کا نہیں، جس طرح ماضی میں برطانیہ یہاں اپنی موجودگی برقرار رکھتا تھا۔

برطانیہ نے حالیہ برسوں میں بارودی سرنگوں کی تلاش اور انہیں ناکارہ بنانے کے لیے جدید بغیر عملے کے نظام تیار کئے ہیں، جن میں خودکار ڈرون اور زیر آب چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔

یہ نظام دور سے بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انہیں غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے عملے کے لیے خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کسی مکمل بحری بیڑے کا متبادل نہیں بن سکتی۔

برطانوی بحری بیڑے کے سربراہ نائب امیرالبحر اسٹیو مورہاؤس نے تسلیم کیا کہ برطانیہ کے پاس اس میدان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجی موجود ہے، تاہم شدید خطرات والے ماحول میں اس کی عملی تیاری کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے اتحادی ممالک پر دباؤ کے باوجود لندن کی جانب سے محدود تعیناتی اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ برطانیہ واشنگٹن کی خواہش پر جنگ کو مزید وسعت دینے کے لیے تیار نہیں۔

برطانیہ کے توانائی کے وزیر ایڈ ملی بینڈ نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت خلیج میں ایک جہاز بھیجنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

امریکی انتظامیہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ صورتحال نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یورپی ممالک مغربی ایشیاء میں بڑھتی ہوئی جنگ کے ممکنہ معاشی اور تزویراتی اثرات کے پیش نظر انتہائی محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔