مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے، برطانوی وزیرِ اعظم

برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو کسی صورت روسی صدر پیوٹن کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہونے دیا جائے گا، انہوں نے اعلان کیا اس جنگ میں براہِ راست حصہ نہیں بنیں گے۔
برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے ڈاؤننگ اسٹریٹ سے اپنے خطاب میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر برطانیہ کی ترجیحات کا واضح اعلان کیا ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ برطانیہ کے مقاصد بالکل واضح اور مستقل ہیں، جن میں سب سے پہلی ترجیح خطے میں موجود برطانوی شہریوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ کی اس وسیع تر جنگ میں براہِ راست حصہ نہیں بنے گا، تاہم ایرانی خطرات کو روکنے کے لیے ایک تیز رفتار حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
وزیرِ اعظم نے برطانوی شہریوں کو فراہم کی جانے والی امداد کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اب تک بانوے ہزار سے زائد برطانوی شہری تجارتی اور سرکاری پروازوں کے ذریعے بحفاظت وطن واپس پہنچ چکے ہیں، جبکہ لبنان میں موجود برطانوی شہریوں کی معاونت کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
عسکری تیاریوں کے حوالے سے سر کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ قبرص میں برطانیہ کے ہزاروں فوجی جوان اور خواتین تعینات ہیں، جنہیں تین لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرنز اور ڈرون شکن ٹیموں کی مدد حاصل ہے تاکہ ایرانی حملوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران معاہدہ کرنے کیلئے بے چین ہے، مگر فی الحال تیار نہیں، ٹرمپ
سفارتی محاذ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ برطانوی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر نے حال ہی میں خطے کا دورہ کیا ہے، جبکہ انہوں نے خود کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی سے ملاقات کی ہے اور جلد ہی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات کریں گے۔
وزیرِ اعظم نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو کسی صورت روسی صدر پیوٹن کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہونے دیا جائے گا اور برطانیہ یوکرین کی حمایت پر اپنی توجہ مرکوز رکھے گا۔
سر کیئر اسٹارمر نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر کمزور کر دیا ہے، لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ایسے مذاکراتی معاہدے کی ضرورت ہوگی، جو ایران کو اپنے جوہری پروگرام کی دوبارہ تعمیر سے روکے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنا سکے۔
انہوں نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور استحکام کے حوالے سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مشکل کام ہے، لیکن برطانیہ اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا قابلِ عمل منصوبہ تیار کر رہا ہے، جس سے خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











