ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے نہ کرتے تو تیسری عالمی جنگ ہو جاتی، امریکی صدر

امریکی صدر نے بی ٹو بمبار طیارے کے ماڈل کا معائنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر ان حملوں کا حکم نہ دیا جاتا تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا اور دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہوتی۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب کے دوران بی ٹو بمبار طیارے کے ماڈل کو ہاتھ میں اٹھا کر اس کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ یہی وہ طیارے تھے، جنہیں گزشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں استعمال کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ اگر انہوں نے ایران کے خلاف ان فضائی حملوں کا حکم نہ دیا ہوتا تو آج صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران تیزی سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے قریب پہنچ رہا تھا اور اگر اس عمل کو نہ روکا جاتا تو دنیا ایک خطرناک جنگ کی طرف بڑھ سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران معاہدہ کرنے کیلئے بے چین ہے، مگر فی الحال تیار نہیں، ٹرمپ
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے ذریعے ایک بڑی عالمی تباہی کو روکا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو نہ صرف ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے بلکہ ممکنہ طور پر ایک ایٹمی جنگ بھی شروع ہو سکتی تھی، جو تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر لیتی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے خواہاں نہیں ہیں اور کسی سے بھی کم جنگ چاہتے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایران کی سرگرمیوں کو برسوں سے قریب سے دیکھا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار آ جاتے تو وہ انہیں استعمال کرنے سے بھی گریز نہ کرتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اسی خدشے کی بنیاد پر ایران کے جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان حملوں میں بی ٹو بمبار طیاروں سمیت جدید فضائی طاقت استعمال کی گئی تھی۔
ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی سلامتی کے لیے ضروری تھا اور اس کے ذریعے ایک بڑے خطرے کو ٹال دیا گیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










