امریکہ سے کسی بھی قسم کے رابطے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، عباس عراقچی

ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ذریعے دوبارہ رابطے بحال ہو گئے ہیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ذریعے تہران کے ساتھ دوبارہ رابطے قائم کر لئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ ان کا اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ آخری رابطہ اس وقت ہوا تھا، جب ان کے مالک یعنی امریکی قیادت نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملہ کر کے سفارت کاری کا گلا نہیں گھونٹا تھا۔
عباس عراقچی نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر حالیہ فوجی جارحیت کے بعد کسی بھی قسم کے رابطے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی عہدیدار کے بیان پر شدید احتجاج، ذمہ داروں کو احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا، ایرانی وزیر خارجہ
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے تمام دعوے حقیقت سے عاری ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف عالمی منڈی میں تیل کے تاجروں اور عام عوام کو گمراہ کرنا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایک طرف ایران کی خود مختاری پر حملے کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات اور رابطوں کی جھوٹی خبریں پھیلا کر دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی دفاعی پالیسی اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امریکہ کی جانب سے سفارت کاری کے خاتمے کے بعد اس طرح کے پروپیگنڈے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












