منگل، 17-مارچ،2026
منگل 1447/09/28هـ (17-03-2026م)

موت کے سائے سے چند منٹ کا فاصلہ، مجتبیٰ خامنہ ای تہران حملے میں بال بال بچے، برطانوی اخبار

17 مارچ, 2026 11:07

برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ فروری میں اپنے والد کی رہائش گاہ پر ہونے والے مہلک فضائی حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ نے ایران میں ہونے والے ایک ہولناک فضائی حملے کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔

منظرِ عام پر آنے والی آڈیو ریکارڈنگز کے مطابق، ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای گذشتہ فروری کے آخر میں تہران میں اپنے والد کی رہائشی عمارت پر ہونے والے حملے میں چند منٹ کے فرق سے جان بچانے میں کامیاب رہے۔

ریکارڈنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 28 فروری کو ہونے والے اس حملے کا اصل نشانہ مجتبیٰ خامنہ ای ہی تھے، لیکن وہ میزائل گرنے سے چند لمحے قبل ہی گھر سے نکل کر باغیچے کی طرف چلے گئے تھے، جس کی وجہ سے ان کی زندگی بچ گئی۔ اس حملے میں ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ حکام شہید ہوگئے۔

ریکارڈنگ میں علی خامنہ ای کے دفتر کے شعبہ تشریفات کے سربراہ مظاہر حسینی کو یہ بتاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی ٹانگ پر معمولی زخم آئے، تاہم ان کی اہلیہ، بیٹا اور داماد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں : اگر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں تو سرنڈر کر دیں، ایران کی ڈیل کی شرائط ہمیں پسند نہیں، ٹرمپ

رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ اس وقت کیا گیا، جب علی خامنہ ای کمپاؤنڈ کے اندر اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں مصروف تھے۔ حملے میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ اور محمد پاکپور سمیت کئی کلیدی شخصیات شہید ہوئیں۔

مظاہر حسینی کے مطابق، حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ کے اندر بیک وقت کئی مقامات کو نشانہ بنایا تاکہ خامنہ ای خاندان کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

تین میزائل براہِ راست سپریم لیڈر کی رہائش گاہ پر گرے، جبکہ مجتبیٰ کے گھر کے علاوہ ان کے بھائی مصطفیٰ خامنہ ای اور دیگر رشتہ داروں کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

حملے میں سپریم لیڈر کے ملٹری آفس کے سربراہ محمد شیرازی کا جسم اس قدر بری طرح چھلنی ہوا کہ ان کی شناخت بھی مشکل ہو گئی تھی۔

ان حملوں کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں اور ان کا ظہور صرف ایک تحریری پیغام تک محدود رہا ہے، جس نے ان کی صحت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک بیان میں اشارہ دیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخم ایرانی دعوؤں سے کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں، جو ان کی طویل غیر موجودگی کی وجہ ہو سکتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔