جمعہ، 20-مارچ،2026
جمعہ 1447/10/01هـ (20-03-2026م)

امریکہ اور ایران ایٹمی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، عمانی وزیر خارجہ

19 مارچ, 2026 11:14

دی اکانومسٹ میں عمانی وزیر خارجہ کے مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران ایٹمی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، لیکن عین وقت پر ہونے والی عسکری کارروائیوں نے امن کی ان کوششوں کو سبوتاژ کر کے خطے کو ایک غیر قانونی اور طویل جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے عالمی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک حالیہ اور چشم کشا مضمون میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک غیر قانونی جنگ کے خاتمے کے لیے فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ واشنگٹن اور تہران ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک حتمی معاہدے کو طے کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے۔ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ ایسا ہوا کہ مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بالکل قریب تھے اور فروری کے اواخر میں ہونے والے مذاکرات کے حالیہ دور کو اب تک کا سب سے زیادہ ٹھوس اور بامعنی قرار دیا گیا تھا، جس نے ایک سفارتی حل کی حقیقی امیدیں پیدا کر دی تھیں۔

لیکن بدقسمتی سے ان اہم مذاکرات کے چند گھنٹوں کے اندر ہی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی کی گئی جس نے معاہدے کی جانب بڑھنے والی تمام تر رفتار اور کوششوں کو اچانک ختم کر دیا۔

تہران کے نقطہ نظر سے اس صورتحال میں جوابی کارروائی ناگزیر ہو چکی تھی۔ ایران نے اپنے ردعمل کو ایک وجودی خطرے کے خلاف دفاع کے طور پر پیش کیا اور خطے میں ان مقامات کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ امریکہ سے وابستہ ہیں۔

اگرچہ اس طرح کے بڑھتے ہوئے تناؤ کی عالمی سطح پر مذمت کی جاتی ہے، لیکن عمانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جب جنگ کو اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جائے تو ایرانی قیادت کے پاس شاید ہی کوئی دوسرا قابل عمل راستہ بچا ہو۔

یہ صورتحال محض ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کی ایک گہری تزویراتی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے اپنی خارجہ پالیسی کی سمت پر کنٹرول کھو دیا ہے اور قلیل مدتی فوجی فیصلوں کو طویل مدتی سفارتی مواقع پر حاوی ہونے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : علی لاریجانی کی شہادت کے باوجود ایرانی نظام مضبوط ہے، ایرانی وزیر خارجہ

وہ لمحہ جو ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہو سکتا تھا، وہ اب ایک پھیلتی ہوئی اور خطرناک جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ واشنگٹن کے اصل مفادات کیا ہیں۔

وزیر خارجہ کے مطابق امریکی پالیسی کو اپنے بنیادی مفادات کے واضح ادراک پر مبنی ہونا چاہیے، جن میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا، توانائی کی ترسیل کے محفوظ سلسلے کو یقینی بنانا اور ایک عالمی اہمیت کے حامل خطے میں معاشی و سرمایہ کاری کے مواقع کو وسعت دینا شامل ہے۔

یہ تمام مقاصد صرف اسی صورت میں حاصل کیے جا سکتے ہیں جب خطے میں استحکام ہو اور ایران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن تعلقات استوار رکھے۔

موجودہ حالات میں دوبارہ مذاکرات کا آغاز کرنا سیاسی اور سفارتی طور پر انتہائی دشوار ہو گیا ہے کیونکہ باہمی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔

واشنگٹن نے دو بار مذاکرات سے پیچھے ہٹ کر فوجی کارروائی کا راستہ اپنایا، جس کی وجہ سے ایران کے لیے اب اس انتظامیہ پر دوبارہ بھروسہ کرنا آسان نہیں ہوگا، جسے وہ ناقابل اعتبار سمجھتا ہے۔

ان تمام رکاوٹوں کے باوجود عمانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایک طویل جنگ سے بچنے کا واحد راستہ دوبارہ مکالمے کی طرف لوٹنا ہی ہے۔ سفارت کاری کو دوبارہ ممکن بنانے کے لیے دونوں فریقوں کو کسی بڑے اور پرکشش مقصد کی ضرورت ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ نے تجویز دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات کو ایک وسیع تر علاقائی فریم ورک سے جوڑ دیا جائے جس کی بنیاد ایٹمی شفافیت اور طویل مدتی توانائی کی تبدیلی پر ہو۔

چونکہ مغربی ایشیاء کے ممالک کاربن کے بعد کے مستقبل کی تیاری کر رہے ہیں، اس لئے جوہری توانائی کے استعمال، نگرانی اور حدود کے تعین پر تعاون ایک تنازع کو مشترکہ مفاد کے شعبے میں بدل سکتا ہے۔

ایسا فریم ورک اعتماد سازی کے اقدامات میں تبدیل ہو سکتا ہے اور بالآخر ایٹمی پالیسی پر ایک علاقائی اتفاق رائے پیدا کر سکتا ہے۔ خلیجی ریاستوں کی حمایت سے یہ ڈھانچہ ایک وسیع تر عدم جارحیت کے معاہدے کی بنیاد بھی فراہم کر سکتا ہے۔

اگرچہ جاری جنگ کے دوران نتائج کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن مرکزی دلیل بالکل واضح ہے کہ سفارت کاری ایک بار دسترس میں تھی اور تمام تر تلخیوں کے باوجود اب بھی یہی راستہ اس بحران سے نکلنے کا واحد حل ثابت ہو سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔