امریکی ذخائر کافی نہیں، تیل کی قیمتوں میں استحکام کیلئے چین کو آگے آنا ہوگا، ماہر

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں اس وقت تک بلند رہیں گی، جب تک چین اپنے وسیع اسٹریٹجک ذخائر مارکیٹ میں نہیں لاتا۔
عالمی معاشی امور کے ماہر اور گلوبل اکنامک ایڈوائزرز کے چیف اکانومسٹ ولیم لی نے ایران جنگ کے عالمی مارکیٹ پر اثرات کے حوالے سے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ اگرچہ امریکہ نے تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے تیل نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن اس کا اثر محض چند ہفتوں تک ہی رہے گا اور تیل کی قلت کا مسئلہ برقرار رہے گا۔
ولیم لی کے مطابق امریکہ کا یہ قدم صرف نفسیاتی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی مجموعی دستیابی میں ہونے والا اضافہ بہت معمولی ہوگا اور یہ ان جگہوں تک نہیں پہنچ پائے گا، جہاں اس کی اصل ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی قیادت معاہدے کیلئے بے چین، مگر خوفزدہ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت تیل کی سب سے زیادہ طلب ایشیائی ممالک میں ہے اور امریکہ سے ان منڈیوں تک تیل کی ترسیل میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی صرف اسی صورت ممکن ہے، جب چین اپنے خام تیل کے بڑے ذخائر کو مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کے لیے استعمال کرے۔ تاہم اب تک بیجنگ کی جانب سے ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کہ وہ اپنے ذخائر کو چھیڑے گا۔
چین سرکاری طور پر اپنے خام تیل کے ذخائر کے بارے میں معلومات جاری نہیں کرتا، لیکن دنیا بھر میں یہ مانا جاتا ہے کہ چین کے پاس دنیا کا سب سے بڑا اسٹریٹجک تیل کا ذخیرہ موجود ہے۔ تقابل کے لیے امریکہ کے پاس اس وقت تقریباً چار سو پندرہ ملین بیرل تیل ذخیرہ ہے۔
جب تک چین اس بحران میں مداخلت نہیں کرتا، عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کا دباؤ کم ہونا مشکل نظر آتا ہے، جس کا براہ راست اثر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











